خواب سناتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ خواب سچا بھی نکلا۔ اس سے مطلب ان کا صرف یہ ہوتا ہے کہ اعتراض کریں کہ اسلام کی اس میں خصوصیت ہی کیا ہے ۔ہم ایسی نظیریں بتا سکتے ہیں کہ بعض فاسق ۔فا جر ۔بد معاش ۔مشرک چور ۔زانی ڈاکوؤں کو بھی خواب آ جاتے ہیں اور ان میں سے سچے بھی ہوتے ہیں تو ھر اس میں مولوی محمد حسین کا کیا خصوصیت ہوئی ؟
شرمیت یہا کا ایک آریہ ہے اس نے ایک خواب میں اپنے ہاں لڑکا پیدا ہونا بتایا تھا ۔ چنانچہ لڑکا پید ا ہوا اور پھر ایک بار بیان کیا کہ بابو اللہ دتہ تبدیل ہو جاوے گا ۔ چنانچہ یہ خواب بھی اس کا پورا ہو گیا اور بابو اللہ دتہ کو وہ اس معاملہ کا گواہ بھی کرتا ہے تو پھر کیا ان باتوں سے یہ نتیجہ نکالنا چاہئیے کہ شرمیت کویا اور ایسے لوگوں کو نعوذ باللہ ہم نبی مان لیں ؟
بلکہ اصل بات یہ ہے کہ امور بطور شہادت اللہ تعالیٰ نے ہر طبقہ کے لوگوں میں اس لیے دو یعت کر دئیے ہیں کہ تا کہ انسان ملزم ہو جاوے اور قبول نبوت کے واسطے اس کے پاس اپنے نفس میں سے شاید پیدا ہو جاوے خواب کا ملکہ اللہ تعالیٰ نے اس لیے انسان کی بناوٹ میں رکھ دیا کہ کہیں یہ نبوت کا انکار ہی نہ کر دے ۔
سچی خواب کے واسطے اللہ تعالیٰ نے کوئی شرط نہیں رکھی بلکہ بلا امیتاز کفر واسلا م ۔نیک وبدیہ ملکہ ہر فرد بشر میں رکھ دیا ہے ۔ بھلا دیکھو تو حضرت یوسف ؑ کے سا تھ جو دو آدمی قید تھے ان دونوکو بھی خوابیں آئیں اور وہ دونو سچی بھی تھیں ۔ فرعون کا بھی جو اس وقت کا بادشاہ تھا خواب آئی اور سچھی نکلی تو کیا حضرت یوسف ؑ نے ان کی کوئی تعظیم کہ یا ان کو نبی مان لیا ؟ یا بتاؤ تو بھلا تم نے بھی ان کو کوئی مرتبہ دیا ہے ؟ بھلا ایک تو اپنے خواب کو قتل ہو کر سچا کر دیا مگر دوسرا تو با دشاہ کا مقرب بن گیا تھا اس کی عزت کی ہوتی ؟ اگر اسی طرح ایک دو خوابیں سچی ہو جانے سے کوئی نبی بن جاتا ہے اور اس میں نبوت کی شان آجاتی ہے تو بتاؤ کس کس کو امام مانو گے ۔ ؟ نعوذ باللہ اس طرح تو نشان نبوت کی ہتک اور نبیاء کا تمسخر کرتے ہو ۔
یا د رکھو کہ ایک دو پیسے پاس ہونے سے یا دو چار آنے کا مالک بننے یا چند پونڈوں کے پاس ہونے سے کوئی بادشاہ نہیں بن جاتا ۔بلکہ پیسے روپے اور پونڈ تو کثرت مال وزر کی ایک شہادت ہیں کہ تا ان سے قیاس کر کیا جاوے کہ کروڑ در کروڑ پونڈ اور لا تعداد خزانے بھی ضرور اور یقینًا ہیں ۔ ۔
پس ان لوگوں کی خوابوں اور انبیاء کے الہامات مکالمات اور مخاطبات میں ایک مابہ الا متیاز ہوتا ہے انبیاء کی وحی اپنے تمام لوازمات کے ساتھ ہوتی ہے ۔ اس میں ایک شوکت اور جلال ورعب ہوتا ہے ۔انبیاء کی وحی کیا بلحا ظ کیفیت اور کیا بلحا ظ کمیت عا م لوگوں سے بہت بڑھی ہوئی ہوتی ہے ۔اور وہ ان کا کامیابی اور ان کے دشمنوں کی نامرادی پر مبنی ہوتی ہے ۔ انبیاء کی وحی غیب پر مشتمل ہوتی ہے ۔ لَا یُظھرُ عَلیٰ غیبۃِ آحَدِِ ااِلَّا مَنِ ارتَضَی من رَّسولِِ (الجنَّ ۲۷۔۲۸) غرض انبیاء کی وحی میں کسی انسان کو کسی طرح کا اشتراک نہیں ہوتا ۔