حضرت اقدس نے فرمایا :۔ تعجب آتا ہے کہ ایک طرف تو ہمیں کافر دجال ۔بیدین اور مرتد ٹھہرایا جاتا ہے اور پھر یہی نہیں کہ اپنے آپ تک ہی محدود رکھا ہو بلکہ اس فتویٰ میں قریباً تمام ہندوستان کے بڑے بڑے مولویوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے کے واسطے سر توڑ کو شش کر تا رہا ہے ۔ دوسری طر ف ہمیں ایک شرعی معاملہ میں منصف بنانا چاہتا ہے ۔ اس کے نزدیک جب ہم دائرہ اسلام سے ہی خا رج ہیں ۔تو پھر ایک شرعی معاملہ میں ہمارا دخل کیا اور فیصلہ کیسا ؟ اس سے کہو کہ پہلے تم ہمارے کفر و اسلام کا تو فیصلہ کر لو ۔ پھر ہمیں منصف بھی بنا لینا ۔ اس شخص نے تو جہاں تک اس سے ممکن ہو سکا اور اس کا بس چلا ہے ہمیں پھانسی دلانے کی کوششوں میں بھی کمی نہیں کی مگر یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی خا ص نصرت تھی کہ اُس نے ہمیں ہر میدان میں عزت دی اور اعداء اور ہماری ذلت چاہیے والوں کو ذلیل کیا ۔ دیکھو لیکھرام کے قتل کے وقت بھی اس نے کس طرح آریوں کو اُکسایا ہماری تلاشی ہوئی اور پھر خون کے مقدمہ میں ایک عیسائی کی طرف سے گواہ بن کر ہمارے بر خلاف اقدام قتل کے ثبوت کے واسطے کو ششیں کیں ۔گورنمنٹ کو ہم سے بد ظن کرنے میں اس نے کوئی دقیقہ اُٹھا نہ رکھا ۔ہمیں باغی بتایا اور صاف کہا کہ گورنمنٹ کیوں ایسے باغی کو نہیں پکڑتی ۔عام لوگوں کو ہن سے بد ظن کرنے میں اپنے ناخنوں تک زور لگایا ۔لوگوں سے کہہ دیا کہ ان سے سلام مت کرو ۔ مصافحہ مت کرو ان کی چوری کرنا ۔ان کو قتل کر دینا اور ان کی عورتیں چھین لینا جائز ہے ۔پھر جب اس کے ہم پر ایسے ایسے احسانات ہیں تو اب یہ نامہ وپیام کیسے ہیں ؟ معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں جس کے واسطے یہ اتنے زور دیتا ہے کہ اس کی کوئی ذاتی اور نفسانی غرض ہے اگر کچھ بھی سعادت کا حصہ اس میں ہوتا تو اسی معاملہ میں غور کرتا کہ جس دن سے اس نے ہماری مخالفت کا بیڑا اُٹھایا ہے اور ہمارے نیست ونابود کرنے میں جان توڑ کو ششیں کی ہیں ۔ اسی دن سے اندازہ تو لگائے کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کے کیسے فیضان نا ز ل ہوئے اور ہمیں کس طرح خدا تعالیٰ نے بڑھا یا اور اس کا اپنا کیا حال ہوا ۔ایک سعید انسان اور سلیم الفطرت آدمی کے ہدایت پاجانے کے واسطے صرف یہی بات کافی تھی ۔ پھر اپنے خط میں لکھا ہے کہ میرے گھر لڑکا پیدا ہوگا ۔یہ فقرہ لکھنے سے اس کی مراد نکتہ چینی ہے اور پیشگوئیوں اور امور نبوت کا نعوذ باللہ استخفاف کرنا مد نظر ہے ۔ سو اس میں بالتفصیل لکھ دیا ہے ۔ وہ نہیں جانتا کہ خواب تو اکثر چوہڑے چماروں اور مردار خوروں کو بھی ہو جاتا ہے اور اکثر سچا بھی ہوتا ہے تو پھر اس میں کیا شیخی ہے ہے کہ میر ے گھر لڑکا ہو گا۔ عام لوگوں کے سچے خوابوں اور مامورین کا الہامات میں مابہ الامیتاز ہمارے پاس بعض ہندو آتے ہیں اور