نہیں چاہتا جو خدا اور اس کے رسول کے احکام کے بر خلاف ہو اور آپ حکم اور عدل ہیں ۔اس واسطے نہایت عجز سے ملتجی ہوں کہ جیسا مناسب حکم ہو صادر فرمایا جاوے تا کہ اس کی تعمیل کی جاوے اس کے جواب میں حضرت نے فرمایا کہ :۔ زندگی کا بیمہ جس طرح رائج ہے اور سنا جا تا ہے اس کے جواز کی ہم کوئی صورت بظاہر نہیں دیکھتے کیونکہ یہ ایک قماز بازی ہے ۔ اگرچہ وہ بہت سارا روپیہ خرچ کر چکے ہیں ۔ لیکن اگر وہ جاری رکھیں گے تو یہ روپیہ اُن سے اور بھی گناہ کروئے گا ۔ اُن کو چاہیے کہ آئندہ زندگی کے گناہ سے بچنے کے واسطے اس کو ترک کر دیویں اور جتنا روپیہ اب مل سکتا ہے وہ واپس لے لیں ۔ قبولیت دعا ایک صاحب نے حضرت کی خدمت میں لکھا کہ میرے واسطے آپ ایسی دعا کریں ۔ جو ضرور قبول ہو اور اس اور اُس معاملہ میں ہو حضرت نے فرمایا :۔ اس کو جواب لکھ دیں کہ خدا تعالیٰ کی یہ عادت نہیں کہ ہر ایک دعا قبول کرے ۔جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے ایسا کہیں نہیں ہوا ۔ ہاں مقبولوں کی دعائیں بہ نسبت دوسروں کے بہت قبول ہوتی ہیں ۔ خدا کے معاملہ میں کسی کا زور نہیں ۔۳؎ ۶مارچ ۱۹۰۸؁ء ( قبل نماز عصر ) مولوی محمد حسین بٹالوی کا ظاہر وباطن مولوی محمد حسین صاحب نے حضرت اقد س کی خدمت میں بذریعہ ایک دو خطوں کے اور زبانی بھی کسی مقدمہ میں منصف بننے کے واسطے لکھا اور کہلا بھیجا تھا اور ساتھ ہی دھمکیاں بھی دی تھیں ۔ کہ اگر آپ اس معاملہ میں منصف نہ بنیں گے تو میں عدالت میں آپ کو گواہ لکھوا دوں گا اور اس طرح سے آپ کو عدالت میں حاضر ہونا پڑے گا ۔