فرمایا :۔ اس کتاب میں ہم نے بڑی بسط سے ان کے متعلق لکھ دیا ہے اور اگر کوئی حق جو بن کر مطالعہ کرے تو اس کے واسطے کافی ہے ۔ دوران تقریر میں حضرت اقدس نے یہ بھی فرمایا کہ :۔ آریوں کے ہاتھ میں آجکل مسلمانوں کے بر خلاف غلطہ فہمی پھیلانے کے واسطے صرف تعدد ازدواج ہی کا مسئلہ رہا گیا ہے جس پر یہ لوگ اپنی نادانی کی وجہ سے اس کی حکمت اور حقیقت سے بے خبر ہونے کی وجہ سے اعتراض کئے جاتے ہیں ۔حالانکہ موجودہ زمانہ پکارا اُٹھا ہے اور زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ واقعی تعدد ازدواج کی ضرورت ہے آریوں نے بھی اس ضرورت کو محسوس کیا ہے ۔ غرض ضرورت کا احساس تو سب نے کر لیا ہے باقی رہی یہ بات کہ اس ضرورت کو ہم نے کس رنگ میں پورا کیا اور آریوں نے اس کے پورا کرنے کی کیا راہ سوچی سو وہ تعدد ازدواج اور نیوگ ہے ۔ اب ان دونو باتوں کا مقابلہ کر کے دیکھ لو کہ کونسی راہ اچھی ہے ۔ ۱؎ قبل از نماز ظہر ۲؎ لائف انشوزنس ا یک دوست کا خط حضرت اقدس کی خدمت میں پیش ہوا جس میں لکھا تھا ۔ بحضور جناب مسیح موعود مہدی مسعود علیہ السلام مارچ ۱۹۰۰ میں نے نے اپنی زندگی کا بیمہ واسطے دو ہزار روپے کے کرایا تھا ۔ شرائط یہ تھیں کہ اس تاریخ سے تا مرگ میں لعے۴۶ سالانہ بطور چندہ کے ادا کرتا رہوں گا ۔ تب دو ہزار روپیہ بعد مرگ میرے وارثان کو ملے گا اور زندگی میں یہ روپیہ لینے کا حقدار نہ ہوں گا ۔ اب تک میں نے تقریباً مبلغ چھ سو روپیہ کے بیمہ کرنے والی کمپنی کو دے دیا ہے ۔اب اگر میں اس بیمہ کو توڑ دوں تو بموجب شرائط اس کمپنی کے صرف تیسرے حصہ کا حقدار ہوں ۔ یعنی دو صد روپیہ ملے گا اور باقی چار صد روپیہ ضائع جائے گا ۔ مگر چونکہ میں نے آپ کے ہاتھ پر اس شرط کی بیعت کی ہوئی ہے میں دین کو دنیا پر مقدم رکھو گا ۔ اس واسطے بعد اس مسئلہ کے معلوم جانے کے میں اس حرکت کا مرتکب ہونا