مولوی ابو رحمت صاحب نے عرض کی کہ گوپی کے معنے یوں بھی ہیں کہ گو کہتے ہیں زمین کو اور پی پالنے والے یعنی کرشن جی کے مرید ان با صفا ایسے لوگ تھے جو نیک مزاج اور مخلوق کی پرورش کرنے والے تھے ۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ :۔ اس میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ انسان کو زمین سے بھی تشبیہ دی گئی ہے جیسا کہ قرآن شریف میں ذکر ہے کہ اِعلَمُو آاَ نَّ اللّٰہَ یُحی الآرضَ بعَدَ مَوتھَا (الحدید: ۱۸) ارض کے زندہ کرنے سے مراد اہل زمین ہیں پھر مولوی ابو رحمت صاحب نے عرض کی کہ یہ بھی ممکن ہے کہ کرشن جی نے اپنی تعلیم کو عورتوں ہی کے ذریعہ سے پھیلا یا ہو کیونکہ ان کے مرد تو عمومًا کھیتی کے دھندوں میں جنگلوں بنوں میں رہتے تھے اور ان کو اشاعت مذہب کے واسطے کم فرصت ہوتی تھی ۔عورتیں ہی یہ کام کرتی ہوں گی ۔ حضرت اقدس ؑ نے فرمایا کہ :۔ ہمیں ایک دفعہ خیال آیا کہ کرشن جی کو داؤد کے سا تھ بالکل مشابہت معلوم ہوتی ہے ۔ بلحاظ راگ رقص مجمع مستورات اور بہادری میں خدا جانے یہ کیا بات ہے ۔ کتاب ’’ چشمہ معرفت فرمایا کہ :۔ ہم نے اپنی کتاب کا نام جس کا ابھی کچھ حصہ باقی ہے ) چشمہ معرفت رکھا ہے کیونکہ اس میں بڑی معرفت کی باتیں اور حقائق ومعارف درج گئے گئے ہیں ۔ فرمایا :۔ وہ لیکچر تو ہم نے خاص اس مجمع کا لحا ظ رکھ کر اور ان کے شائع کردہ شرائط کے مطابق اور مناسب موقعہ اختصار سے لکھا تھا مگر جب انہوں نے خود اپنے پیش کردہ وہ شرائط کی پا بندی نہ کی ۔ اور اپنے اقرار کی ذرہ بھی پروانہ کر کے بہت سے وہی پرانے اعتراضات جن کا بار بار جواب دے دیا گیا ہے ۔ پھر دلآ زاری کے واسطے بیان کئے تو ہمیں بطور تتمہ ان کے سب سوالات کا جواب لکھنے کے واسطے کتاب کو اور بڑھا نا پڑا ۔ فرمایا :۔ مشکل یہ ہے کہ ان لوگوں نے تو قسم کھائی ہوئی ہے کہ ہماری کتاب نہ پڑھیں ۔جہل ۔نادانی ۔ اور تعصب کی پٹی آنکھوں پر باندھی ہوئی ہے ۔ ہماری کسی کتاب کو نہیں پڑھتے ۔دلائل کو نہیں مانتے بے تماشا اعتراض کئے جاتے ہیں ۔