کر کے دکھانا اور خدائی امتحان میں پاس ہونا بڑی بات ہے ۔
دیکھو ۔ ہماری ہی ابتدائی حالت پر غور کرو کہ اول اول ہمارے ساتھ ایک آدمی بھی نہ تھا ۔مولوی محمد حسین نے ہمارے واسطے صد مہریں لگوائیں اور فتویٰ دے دے کہ ان کا قتل کرنا ۔ ان کا مال لوٹ لینا ۔ ان کی عورتیں چھین لینا سب جائز ہے ۔ اور یہ لوگ کافر ۔اُکفر اصال مضل اور یہود نصاری سے بھی بد تر ہیں ۔ مگر دیکھ لو ان کی کیا پیش گئی ۔خدا تعالیٰ نے ان کو کیسا ذلیل کیا ۔
پس سچے مومن بننا چاہئیے ۔دیکھو آنحضرت ﷺ کے حالات پر ذر نظر ڈالو ۔آپ کے زمانہ میں کیسی مشکلات کا سامنا تھا ۔ مگر آپ کے اور آپ کے صحابہ ؓ کے وفا ۔صدق ’ صبر اور استقامت نے کیا کچھ کر دکھایا یقینا جانو کہ اگر کروڑ توپ بھی ہوتی ۔جب بھی یہ کام جو ان لوگوں کے ایمان صدق صبر اور استقلال نے کر دکھایا ہر گز ہرگز نہ کر سکتی ۔ دیکھو آپ کے پاس نہ کوئی فوج تھی نہ توپیں تھیں نہ سپاہی تھے مگر اللہ تعالیٰ نے کیسی تائید کی کہ بڑے بڑے لوگ خس وخاشاک کی طرح فتح ہوتے چلے گئے ۔
ہیں خیال آیا کہ ہمارا نام مہدی ہے ۔ عیسیٰ ہے اور کرشن کے نام سے بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں پکارا ہے اور انہیں تنیوں کی آمد کی انتظار میں اس وقت تین بڑی قومیں لگی ہوئی ہیں ۔مسلمان صدی کے عیسائی عیسیٰ کی آمد ثانی کے اور ہند کرشن اوتار کے ۔ چنانچہ ان ناموں میں یہی حکمت الہٰی ہے ۔
کرشن کی گوپیوں کی حقیقت
مولوی ابو رحمت صاحب نے عرض کی کہ حضور کرشن کے معنے ان کی لعنت کے بموجب ہیں وہ روشنی جو آہستہ آہستہ دنیا کو روشن کرتی ہے ۔ تاریکی جہالت کے مٹانے والے کا نام کرشن ہے ۔
حضرت اقدس نے فرمایا کہ :۔
ان کے متعلق جو گوپیوں کی کثرت مشہور ہے اصل میں ہمارے خیال میں بات یہ ہے کہ اُمت کی مثال عورت سے بھی دی جاتی ہے ۔چنانچہ قرآن شریف سے بھی اس کی نظیر ملتی ہے ہے ۔جیسا کہ فرماتا ہے ۔ ضَرَبَ اللّٰہُ مثلاً للَّذینَ اٰمنُوا امرَاَتَ فِرعَونَ ۔الخ ( التحریم :۱۲) یہ ایک نہیات ہی باریک رنگ کا لطیف استعارہ ہوتا ہے ۔اُمت میں جو ہر صلاحیت ہوتا ہے اور نبی اور اُمت کے تعلق سے بڑے بڑے حقائق معارف اور فیضان کے چشمے پیدا ہوتے ہیں اور نبی اور اُمت کے سچے تعلق سے وہ نتائج پیدا ہوتے ہیں جن سے خدائی فیضان اور رحم کا جذب ہوتا ہے پس کرشن اور گوپیوں کے ظاہری قصہ کی تہہ میں ہمارے خیال میں یہی راز حقیقت پہناں ہے ۔