کی ہدایت اور توحید قائم کرنے کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک قوم میں نبی آئے ہیں ۔یہ بات الگ ہے کہ ان کے نام ہمیں معلوم نہ ہوں ۔ منھُم مَّن قَصَصنَا عَلَیکَ وَمِنھُم مّن لَّم نَقصُص عَلَیکَ ( المؤمن : ۷۹) لمبے زمانے گذر جانے کی وجہ سے لوگ ان کی تعلیمات کو بھوُل کر کچھ اور کا اور ہی ان کی طرف منسوب کرنے لگ جاتے ہیں ۔اب دیکھو بیچارے حضرت عیسیؑ وہ تو خود اپنی وفات کا اقرار کرتے ہیں ۔ اور اپنے آپ کو خدا کا ایک عاجز بندہ اور معمولی انسان کی طرح کھاتا پیتا اور دیگر حوائج انسانی کا محتاج بیان کرتے ہیں اور خدائی سے کانوں پر ہاتھ رکھتے ہیں مگر عیسائی ہیں کہ ان کو زبردستی خدا بنائے بیٹھے ہیں یہی حال حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا ہے ۔
ایک شخص نے کچھ عرصہ ہوا لکھا تھا کہ تمام انبیاء اولیاء ار ہر طبقہ کے لوگ حضرت امام حسین کی شفاعت ہی سے نجات پاویں گے ۔دیکھو صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنم کی طرف سے تو انہوں نے پہلے ہی قصہ تمام کر رکھا تھا نبی کریم ﷺ باقی رہ گئے تھے ۔سو اب دیکھ لو کہ آپ ؑ کے متعلق بھی قصہ تمام کر دیا کہ ان کو بھی بجز امام حسین ؓ نعوذ باللہ نجات نہیں ہو گی ۔ اور بجز شفاعت امام حسین ؓ آپ کو بھی کوئی چارہ نہ ہوگا ۔ دیکھو ان لوگوں نے کہا ں تک غلو کر دیا ہے ۔
غرض انبیاء کے دنیا سے گذر جانے کے بعد ان کی پاک تعلیمات کا یہ حال کیا جاتا ہے قرآن شریف کیا ہے حکَم ہے ۔ کل کتب سابسقہ کی اصلیت کھول کر دکھا دی ہے ۔
سچا مومن بننا چاہیے
مولوی ابو رحمت صاحب نے عرض کی ۔حضور میرے واسطے دعا فرمائی جاوے کہ پیشتر تو میری زندگی اور رنگ میں تھی مگر اب جب سے میں نے عی الاعلان حضور کے عقائد کی اشاعت اپنا فرض مقرر کر لیا ہے تو میری برادری بھی مخالف ہو گئی ہے اور در پئے آزار ہے اور عام طور سے لوگ بھی مجمعوں میں کم آتے ہیں۔
اس پر حضرت اقد س نے فرمایا کہ :۔
آپ صبر سے کام لیں اور استقلال رکھیں ۔آپ دیکھ لیں گے کہ پہلے سے بھی زیادہ لوگ آپ کے مجمعوں میں جمع ہوں گے اور ساری مشکلات دور ہو جائیں گی ۔ایسی مشکلات کا آنا از بس ضروری ہے ۔دیکھو امتحان کے بغیر کسی کی کچھ قدر نہیں ہوتی ۔دنیا ہی میں دیکھ لو کہ پاسو ں کی کیسی پوچھ ہوتی ہے کہ کیا پاس کیا ہے؟ پس جو لوگ خدائی امتحان میں پا س ہو جاتے ہیں پھر اُن کے واسطے ہر طرح کے آرام وآسائش رحمت اور فضل کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ۔ دیکھو ۔قرآن شریف میں صاف فرما یا ہے کہ ۔ آحَسِبَ النَّاسُ آن یُّترَکُوآ ان یَّقُو لُو آمنَّا وَھُم لَا یُفتَقُونَ ( العنکبوت : ۳ ) صرف زبان سے کہہ لینا تو آسان ہے مگر کچھ