ایک بار ہم نے کرشن جی کو دیکھا کہ وہ کالے رنگ کے تھے اور پتلی ناک ۔کشادہ پیشانی والے ہیں ۔ کرشن جی نے اُٹھ کر اپنی ناک ہماری ناک سے اور اپنی پیشانی ہماری پیشانی سے ملا کر چسپاں کر دی ۔ ایک اور واقعہ آپ نے یوں بیان فرمایا کہ خواجہ باقی باللہ صاحب کے سامنے کسی شخص نے اپنی خواب یوں بیان کر کہ میں ے دیکھا ہے کہ ایک آگ ہے اور راجہ رمچند رجی اس کے کنارے پر ہیں اور کرشن جی عین اس کے وسط میں پڑے ہیں ۔ حا ضرین مجلس میں سے ایک شخص نے یوں اس خواب کی تعیبر بیان کی کہ چونکہ وہ دونوکا فر ہیں اس واسطے آگ میں ہیں ۔مگر ایک کافر کم ہے اس لئے وہ کنارے پر ہے اور دوسرا سخت کافر ہے اس واسطے وہ آگ کے بیچوں بیچ پڑا ہے مگر مرزا جان جانان صاحب جو کہ خواجہ صاحب کے مرید تھے انہوں نے عرض کی کہ حضور یہ تعبیر صحیح نہیں ہیَ۔ خواجہ صاحب نے فرمایا کہ تم کیا بیان کرتے ہو ۔ اس پر مرزا جان جانان نے یوں تعبیر کی کہ وہ آگ آتش محبت الیٰ ہے دوزخ کی آگ نہیں ۔رامچندر جی سالک ہیں اور ابھی کمال عشق حاصل نہیں ہوا ۔ اس واسطے اس کا کنارے پر دیکھا ۔ مگر کرشن جی مجذوب ہیں اور محبت الہیٰ کی آگ جس سے غیر اللہ جل جاتا ہے اس میں ان کو کمال حاصل ہو گیا ہے ۔ اس واسطے ان کو عین بیچوں بیچ میں دیکھا ہے ۔ ایک اور واقعہ اسی مضمون کے متعلق حضرت اقدس ؑ نے یوں بیان فرمایا کہ اولیاء اللہ میں سے ایک صاحب کشف ایک دفعہ جو دھیا میں پہنچے ۔ وہاں پہنچ کر مسجد میں لیٹ گئے ۔ دیکھتے کیا ہیں کہ کرشن جی آئے اور سات روپے اُن کی نذر کئے کہ ہماری طرف سے بطور دعوت قبول کیا جاوے ۔ وہ ولی اللہ صاحب چونکہ مسلمان تھے انہوں نے کہا کہ تم لوگ کافر ہو ہم تمہارا مال نہیں کھاتے تو اس پر کرشن جی نے عرض کیا کہ کیا آپ موجودہ ہندوؤں سے ہماری حالت اور ایمان کا اندازہ لگاتے ہیں ۔ ؟ ہم ان میں سے ہرگز ہرگز نہیں ہیں بلکہ ہمارا مذہب توحید ہے اور ہم آپ لوگوں کے بالکل قریب ہیں ۔ علاوہ ازیں ابن عربی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ایک حدیث میں آیا کہکانَ فِی الھندِ نَبیٌ آسوَدُ اللُّونِ اسمُہٗ کَاھِنٌ ‘‘ یعنی ہندوستان میں ایک نبی گذرا ہے جس کا رنگ کالا تھا اور نام اس کا کاہن تھ۔ مجدد الف ثانی سر ہندی صاحب فرماتے ہیں کہ ہندوستان میں بعض قبریں ایسی ہیں جن کو میں پہچانتا ہوں کہ نیبوں کی قبریں ہیں ۔ غرض ان سب واقعات اور شہادتوں سے اور نیز قرآن شریف سے صاف طور سے ثابت ہے کہ ہندوستان میں بھی نبی گذرے ہیں چنانچہ قرآن شریف میں اآیا کہ ان مّن اُمَّۃِِ الاَّ خَلَا فِیھَا نَذیرٌ (فاطر:۲۵) اور حضرت کرشن میں انہیں انبیاء میں سے ایک تھے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر خلق اللہ