آج کل لوگ جلدی جلدی نماز کو ختم کرتے ہیں اور پیچھے لمبی دعائیں مانگنے بیٹھتے ہیں۔ یہ بدعت ہے ۔ جس نماز میں تضرع نہیں ۔ خدا تعالیٰ کی طرف رُجوع نہیں۔ خدا تعالیٰ سے رقت کے ساتھ دُعا نہیں وہ نماز تو خود ہی ٹوٹی ہوئی نماز ہے۔ نماز وہ ہے جس میں دُعا کا مزا آجاوے ۔ خدا تعالیٰ کے حضور میں ایسی توجہ سے کھڑے ہو جائو کہ رقت طاری ہو جائے جیسے کہ کوئی شخص کسی خوفناک مقدمہ میں گرفتار ہوتاہے اور اس کے واسطے قید یا پھانسی کا فتویٰ لگنے والا ہوتاہے۔ اس کی حالت حاکم کے سامنے کیا ہوتی ہے۔ ایسے ہی خوفزدہ دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونا چاہیئے ۔ جس نماز میں دل کہیں ہے اور خیال کسی طرف ہے اور منہ سے کچھ نکلتاہے وہ ایک لعنت ہے جو آدمی کے منہ پر واپس ماری جاتی ہے اور قبول نہیں ہوتی ۔ خدا تعالیٰ فرماتاہے ۔
وَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلَا تِھِمْ سَاھُوْنَ (الماعون: ۵، ۶)
لعنت ہے اُن پر جو اپنی نماز کی حقیقت سے ناواقف ہیں۔ نماز وہی اصلی ہے جس میں مزا آجاوے ۔ ایسی ہی نماز کے ذریعہ سے گناہ سے نفرت پیدا ہوتی ہے اور یہی وہ نماز ہے جس کی تعریف میں کہا گیا ہے کہ نماز مومن کا معراج ہے۔ نماز مومن کے واسطے ترقی کا ذریعہ ہے ۔
اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ( ھود: ۱۱۵)
نیکیاں بدیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ دیکھو بخیل سے بھی انسان مانگتا رہتاہے تو وہ بھی کسی نہ کسی وقت کچھ دے دیتا ہے اور رحم کھاتا ہے ۔ خدا تعالیٰ تو خود حکم دیتاہے کہ مجھ سے مانگو اور میں تمہیں دو ں گا۔ جب کبھی کسی امر کے واسطے دعاکی ضرورت ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی طریق تھا کہ آپ وضو کرکے نماز میں کھڑے ہو جاتے اور نماز کے اندر دُعا کرتے ۔
دُعا کے معاملہ میں حضرت عیسیٰ ؑ نے خوب مثال بیان کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک قاضی تھا جو کسی کا انصاف نہ کرتا تھا اور رات دن اپنی عیش میں مصروف رہتاتھا ایک عورت جس کا ایک مقدمہ تھا وہ ہر وقت اس کے دروازے پر آتی اور اُس سے انصاف چاہتی ۔ وہ برابر ایسا کرتی رہتی یہاں تک کہ قاضی تنگ آگیا اور اس نے بالآخر اس مقدمہ کا فیصلہ کیااور اس کا انصاف اُسے دیا۔ دیکھو کیا تمہارا خدا قاضی جیسا بھی نہیں کہ وہ تمہاری دُعا سنے اور تمہیں تمہاری مراد عطا کرے ۔ ثابت قدمی کے ساتھ دُعا میں مصروف رہنا چاہیئے ۔ قبولیت کا وقت بھی ضرور آہی جائے گا۔ استقامت شرط ہے۔۱؎