انہوں نے کہا اب کچھ ضرورت نہیں ۔یہ ہے بیعت کی حیقت اور غرض وغایت ۔ بعض لوگوں کے ہمارے پاس خطوط آتے ہیں کہ میں ایک مسجد کا ملاں تھا ۔آپ کی بیعت کرنے کی وجہ سے لوگ مجھ سے ناراض ہیں ۔مخالفت کرتے ہیں۔غرض مجھے بیعت کی وجہ سے سخت تکلیف ہے حالانکہ اس آزادی اور امن کے زمانہ اور سلطنت میں ان لوگوں کو کوئی تکلیف نہ کیا پہنچا سکتا ہے ۔زیادہ سے زیادہ کسی نے زبان سے گالیاں نکال دی ہوگی ۔تو ان باتوں سے ہوتا بھی کیا ہے ۔مگر وہ اس کو تکلیف سمجھتے ہیں اور شکایت کرتے ہیں کہ بیعت کرنے کی وجہ سے مجھے یہ تکلیف پہنچی غرض بعض لوگ ذرا سی مخالفت کی بھی برداشت نہیں کر سکتے ۔ اصل میں انہوں نے بیعت کی حقیقت ہی کو نہیں سمجھا ۔ ۱؎ ۵مارچ بوقت سیر کرشن جی مہاراج کا مذہب مولوی ابو رحمت صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور کرشن جی مہاراج کا مذہب جیسا کہ خود ان کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے ان کے زمانہ کے عام اہل ہنود سے الگ تھا۔ حضرت اقدس نے فرمایا :۔ یہ واقعی اور صحیح بات ہے کہ بعد کے لوگ بزرگوں کی تعلیم کو بوجہ امتداد زمانہ بھول جاتے ہیں اور اُن کی سچی تعلیموں میں بہت کچھ بے جا تصرف کر لیا کرت ہیں اور مرور زمانہ سے ان کی اصل تعلیم پر سینکڑوں پڑے پڑ جاتے ہیں ۔اور حقیقت حال دنیا کی نظروں سے پوشیدہ ہو جاتی ہے اصل بات یہی ہے کہ اُن کا مذہب موجود ہ مذہب اہل ہنود سے بالکل مختلف اور توحید کی سچی تعلیم پر مبنی تھا ۔ حضرت اقدس نے اس جگہ اپنے دو الہام بیا ن فرمائے ۔اول یہ ہے کہ ہے کرشن رودَّ گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے ۔ اور دوسرا الہام یہ بیان فرمایا کہ ایک بار الہام ہوا تھا کہ آریوں کا بادشاہ آیا ایک اور خواب حضرت اقدس نے بیان فرمایا کہ ۔