تھا ۔ غرض ان کی وجہ سے بھی اکثر انسان پر مصائب شدائد آجا یا کرتے ہیں تو اُن کی اصلاح کی طر ف بھی پوری توجہ کرنی چاہئیے اور ان کے واسطے بھی دعائیں کرتے رہنا چاہئیے ۔ ۱؎ ۳ مارچ ۱۹۰۸؁ء قبل نماز عصر بیعت کی حقیقت اور غرض وغایت ایک شخص نے عرض کی کہ حضور میں نے پیشتر بذریعہ خط کے بیعت کی ہوئی ہے کیا وہی کافی ہیں ۔؟ فرمایا کہ :۔ ہزاروں آدمی ہیں کہ ان بیچاروں کو دنیوی مشکلات کی وجہ سے استطاعت نہ ہونے کے با عث قادیان میں آنا دشوار ہے اور انہوں نے بذریعہ خطوط ہی بیعت کی ہوئی ہے ۔بیعت کرنے سے مطلب بیعت کی حقیقت سے آگاہ ہونا ہے ۔ ایک شخص نے رو برو ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کی اصل غرض اور غایت کو نہ سمجھا پر وانہ کی تو اس کی بیعت بے فائدہ ہے اور اس کی خدا کے سامنے کچھ حقیقت نہیں ۔ مگر دوسرا شخص ہزار کوس سے بیٹھا بیٹھا صدق دل سے بیعت کی حقیقت اور غرض وغایت کو مان کر بیعت کرتا ہے اور پھر اس اقرار کے اوپر کار بند ہو کر اپنی عملی اصلاح کرتا ہے وہ اس رو برو بیعت کر کے بیعت کی حقیقت پر نہ چلنے والے سے ہزار درجہ بہتر ہے ۔ دیکھو مولوی عبداللطیف صاحب شہید اسی بیعت کی وجہ سے پتھروں سے مارے گئے ایک گھنٹہ تک برابر ان پر پتھر برسائے گئے حتیٰ کہ ان کا جسم پتھروں میں چھپ گیا مگر انہوں نے اُف تک نہ کی ۔ ایک چیخ تک نہ ماری بلکہ ان کو اس ظالمانہ کاروائی سے پشتر تین بار خود امیر ئے اور امر سے توبہ کرنے کے واسطے کہا اور وعدہ کیا کہ اگر تم توبہ کرو تو معاف کر دیا جاوے گا اور پیشتر سے زیادہ عزت اور عہدہ عطا کیا جاوے گا مگر وہ تھا کہ خدا کو مقدم کیا اور کسی دکھ کی جو خدا کے واسطے اُن پر آنے والا تھا پروانہ کی اور ثابت قدم رہ کر ایک نہایت عمدہ زندہ نمونہ اپنے کامل ایمان کا چھوڑ گئے ۔ وہ بڑے فاضل عالم اور محدث تھے ۔ سنا ہے کہ جب ان کو پکڑ کر لے جانے لگے تو اُن سے کہا گیا کہ اپنے بال بچوں سے مل لو ان کو دیکھ لو مگر