ہو گئے تو ان دشمنوں کے ایک اعتراض کو موقعہ ہاتھ آگیا ہے ۔
حالانکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ آلَّذینَ اٰمَنُوا وَلَم یَلبسُوآ ایمَا نَھُم بِظُلمِِ ( الا نعام : ۸۳) بہر حال جماعت کے افراد کی کمزوزی یا برے نمونہ کا اثر ہم پر پڑتا ہے اور لوگوں کو خواہ مخواہ اعتراض کرنے کا موقعہ مل جاتا ہے ۔پس اس واسطے ہماری طرف سے تو یہی نصیحت ہے کہ اپنے آپ کو عمدہ اور نیک نمونہ بنانے کی کو شش میں لگے رہو ۔جب تک فرشتوں کی سی زندگی نہ بن جاوے تب تک کیسے کہا جا سکتا ہے کہ کوئی پاک ہو گیا ۔ یَفعَلوُن مَایُؤ مَرُونَ ( التحریم :۸)
فنا اللہ ہو جانا اور اپنے سب ارادوں اور خواہشات کو چھوڑ کر محض اللہ کے ارادوں اور احکام کا پابند ہو جانا چاہئیے کہ اپنے واسطے بھی اور اپنی اولاد بیوی بچوں خویش واقارب اور ہمارے واسطے بھی باعث رحمت بن جاؤ ۔مخالفوں کے واسطے اعتراض کا موقعہ ہر گز ہرگز نہ دینا چاہیے ۔اللہ تعالیٰ فرما تا ہے کہ فَمِنھُم ظَالِمٌ لِّنَفسہِ وَ منھُم ُّقتَصِدٌ وَمنھُم سَابقٌ بالخیرٰتِ ( فا طر :۳۳)
پہلی دونو صفات ادنیٰ ہیں ۔ سابق بالخیرات بننا چاہئیے ۔ایک ہی مقام پر ٹھہر جانا کوئی اچھی صفت نہیں ہے ۔ دیکھو ٹھہر ا ہوا پانی آخر گندہ ہو جاتا ہے ۔ کیچڑ کی صحبت کی وجہ سے بد بوُدار اور بد مزا ہو جاتا ہے ۔ چلتا پانی ہمیشہ عمدہ ستھرا اور مزیدار گندہ ہو تا ہے اگرچہ اس میں بھی نیچے کیچڑ ہو مگر کیچڑ اس پر کچھ اثر نہیں کر سکتا ۔یہی حال انسان کا ہے کہ ایک ہی مقام پر ٹھہر نہیں جانا چاہئیے ۔یہ حالت خطر ناک ہے ۔ ہر وقت قدم آگے ہی رکھنا چاہئیے نیکی میں ترقی کرنی چاہئیے ورنہ خدا تعالیٰ انسان کی مدد نہیں کرتا اور اس طرح سے انسان بے نور ہو جاتا ہے جس کا نیتجہ آخر کار بعض اوقات ارتداد ہو جاتا ہے ۔ اس طرح سے انسان دل کا اندھا ہو جاتا ہے ۔
اپنی اصلاح میں اپنے اہل وعیال کو شامل رکھو
خدا تعالیٰ کی نصرت انہیں کے شامل حال ہوتی ہے جو ہمیشہ نیکی میں آگے ہی آگے قدم رکھتے ہیں ایک جگہ نہیں ٹھہر جاتے اور وہی ہیں جن کا انجام بخیر ہو تا ہے۔بعض لوگوں کو ہم نے دیکھا ہے کہ ان میں بڑا شوق ذوق اور شدت رقت ہو تی ہے مگر آگے چل کر بالکل ٹھہر جاتے ہیں اور آخر ان کا انجام بخیر نہیں ہوتا ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ دعا سکھلائی ہے کہ آصلِح لِی فیی ذُرّیتی ( الاحقاف ۱۶)
میرے بیوی بچوں کی بھی اصلاح فرما ۔ اپنی حالت کی پاک تبدیلی اور دعاؤں کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد اور بیوی کے واسطے بھی دعا کرتے رہنا چاہئیے کیونکہ اکثر فتنے اولاد کی وجہ سے انسان پر پڑ جاتے ہیں ۔ اور اکثر بیوی کی وجہ سے ۔دیکھو پپلا فتنہ حضرت آدم پر بھی عورت ہی کی وجہ سے آیا تھا ۔حضرت موسیٰ ؑ کے مقابلے میں بلعم کا ایمان جو حبط کیا گیا اصل میں اس کی وجہ بھی توریت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ بلعم کی عورت کو اس بادشاہ نے بعض زیورات دکھا کر طمع دے دیا تھا اور پھر عورت نے بلعم کو حضرت موسیٰ ؑ پر بد دعا کرنے کے واسطے اُکسایا