خدا تعالیٰ سے ڈر کر ایسی باتوں کو ترک کر دیتے ہیں ۔جو منشاء الہیٰ کے خلاف ہیں نفس اور خواہشات نفسانی کو اور دنیا ء مافیھہا کو اللہ تعالی کے مقابلہ میں ہیچ سمجھیں ۔ ایمان کا پتہ مقابلہ کے وقت لگتا ہے ۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ایک کان سے سنتے ہیں دوسری طرف نکال دیتے ہیں ان باتوں کو دل میں نہیں اتارتے ۔چاہے جتنی نصیحت کرو مگر ان کو اثر نہیں ہوتا ۔یا د رکھو کہ خدا تعالیٰ بڑا بے نیاز ہے جب تک کثرت سے اور بار بار اضطراب سے دعا نہیں کی جاتی وہ پروا نہیں کرتا ۔دیکھو کسی کی بیوی یا بچہ بیمار ہو ۔یا کسی پر سخت مقدمہ آجاوے تو ان باتوں کے واسطے اس کو کیسا اضطراب ہوتا ہے ۔ پس دعا بھی جب تک سچی تڑپ اور حالت اضطراب پیدا نہ ہو تب تک وہ بالکل بے اثر اور بیہودہ کام ہے ۔قبولیت کے واسطے اضطراب شرط ہے جیسا کہ فرمایا ۔ آمَّن یُّجیبُ المُضطراَّ اِذا وَعَا ہٌ وَیَکشفُ السُّوئَ ( النمل : ۲۳) اپنے آپ عمدہ اور نیک نمونہ بناؤ ہماری جماعت کے لوگوں کو نمونہ بن کر دکھانا چاہیے اگر کسی کی زندگی بیعت کے بعد بھی اسی طرح کی ناپاک اور گندگی زندگی ہے جیسا کہ بیعت سے پہلے تھی اور جو شخص ہماری جماعت میں ہو کر برا نمونہ دکھاتا ہے اور عملی یا اعتقادی کمزوری دکھاتا ہے تو وہ ظالم ہے کیونکہ وہ تمام جماعت کو بد نام کرتا ہے اور ہمیں بھی اعراض کا نشانہ بناتا ہے ۔ برے نمونے سے اوروں کو نفرت ہوتی ہے اور اچھے نمونہ سے لوگوں کو رغبت پیدا ہوتی ہے ۔ بعض لوگوں کے ہمارے پاس خط آتے ہیں ۔وہ لکھتے ہیں کہ میں اگرچہ آپ کی جماعت میں ابھی داخل نہیں مگر آپ کی جماعت کے بعض لوگوں کے حالات سے البتہ اندازہ لگاتا ہوں کہ اس جماعت کی تعلیم ضرور نیکی پر مشتمل ہے ۔ انَّ اللّٰہ مَعَ الَّذِینَ اتَّقَوا وَّالَّذینَ ھُم مُّحِسنُو نَ ( النّحل : ۱۶۹) خدا تعالیٰ بھی انسان کے اعمال کا روز نامچہ بناتا ہے ۔پس انسان کو بھی اپنے حالات کا ایک روز نامچہ تیار کرنا چاہییے اور اس میں غور کرنا چاہیے کہ نیکی میں کہاں تک آگے قدم رکھا ہے ۔انسان کا آج اور کل برابر نہیں ہونے چاہئیں ۔جس کا آج اور کل اس لحا ظ سے کہ نیکی میں کیا ترقی کی اور برابر ہو گیا وہ گھاٹے میں ہے ۔ انسان اگر خدا کو ماننے والا اور اسی پر کامل ایمان رکھنے والا ہو تو کبھی ضا ئع نہیں کیا جاتا بلکہ اس ایک کی خا طر لاکھوں جانیں بچائی جاتی ہیں ۔ ۔ ایک شخص جو الولیاء میں سے تھے ان کا ذکر ہے کہ ہو جہاز میں سوار تھے ۔سمندر میں طوفان آگیا ۔ قریب تھا کہ جہاز غرق ہو جاتا ۔ اس کی دعا سے بچا لیا گیا اور دعا کے وقت اس کا الہام ہوا کہ تیری خا طر ہم نے سب کو بچا لیا ۔ مگر یہ باتیں نرا زبانی جمع خرچ کرنے سے حا صل نہیں ہوتی ۔دیکھو ہمیں بھی اللہ تعالیٰ نے ایک وعدہ دیا ہے ۔ انَّی اُحَافِظُ کّلَّ مَن فی الدَّارِ مگر دیکھو ان میں غافل عورتیں بھی ہیں ۔ مختلف طبائع اور حالات کے انسان ہیں خدا نخواستہ اگر ان میں سے کوئی طاعون سے مر جاوے یا جیسا کہ بعض آدمی ہماری جماعت میں طاعون سے فوت