صرف نفس کی وہ حالت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے نفس مطمنہ کے نام سے پکارا ہے اور وہی اچھا ہے وہ اس حالت کا نام ہے کہ جب انسان خدا کے ساتھ ٹھہر جات اہے اسی حالت میں آکر انسان گناہ کی آلائش سے پاک کیا جاتا ہے ۔ یہی ایک گناہ سوز حالت ہے اور اسی درجہ کے انسانوں کے ساتھ برکات کے وعدے ہوئے ہیں ۔ ملائکہ کا نزول ان پر ہوتا ہے اور حقیقی نیکی اور پاکی صرف انہیں کا حصہ ہوتی ہے ۔
صرف زبان کا اقرار تو خدا تعالیٰ کے نزدیک کچھ چیز ہی نہیں ۔ہم نے اکثر ہندو دیکھے ہیں کہ خیانت کریت ہیں کم تولتے ہیں ۔جھوٹ بولتے ہیں دنیا کی محبت میں مرے جاتے ہیں ۔ مگر زبان سے دوسری طرف یہ بھی کہے جاتے ہیں کہ جی صاحب دنیا فانی ہے ۔نا پائیدار ہے ۔
میری حقیقی جماعت بنو
پس تم ایسے ہو جاؤ کہ خدا تعالیٰ کے ارادے تمہارے ارادے ہو جاویں اسی کی رضا ہو ۔ اپنا کچھ بھی نہ ہو سب کچھ اس کا ہو جاوے صفائی کے یہی معنے ہیں کہ دل سے خدا تعالیٰ کی عملی اور اعتقادی مخالفت اُٹھا دی جاوے ۔خدا تعالیٰ کسی کی نصرف نہیں کرتا جب تک وہ خود نہیں دیکھتا کہ اس کا ارادہ میرے ارادے اور اس کی مرضی میری رضا میں فنا نہیں ہے ۔
میں کثرت جماعت سے کبھی خوش نہیں ہوتا ۔اب اگرچہ چار لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے مگر حقیقی جماعت کے معنے یہ نہیں ہیں کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر صرف بیعت کر لی ۔ بلکہ جماعت حقیقی طور سے جماعت کہلانے کی تب مستحق ہو سکتی ہے کہ بیعت کی حقیقت پر کار بند ہو ۔سچے طور سے ان میں ایک پاک تبدیلی پیدا ہو جاوے اور ان کی زندگی گناہ کی آلائش سے بالکل صا ف ہو جاوے ۔ نفسانی خواہشات اور شیطان کے پنجے سے نکل کر خدا تعالیٰ کی رضا میں محو ہو جاویں۔حق العباد کو فراخ دلی سے پورے اور کامل طور سے ادا کریں ۔ دین کے واسطے اور اشاعت دین کے لیے ان میں ایک تڑ پ پیدا ہو جاوے اپنی خواہشات اور ارادوں آرزوں کو فنا کر کے خدا کے بن جاویں ۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم گمراہ ہو پر جسے میں ہدایت دوں تم سب اندھے ہو مگر وہ جس کو میں نور بخشوں ۔ تم سب مردے ہو مگر وہی زندہ ہے جس کو میں روحانی زندگی کا شربت پلاؤ ں انسان کو خد ا تعالیٰ کی ستاری ڈھانکے رکھتی ہے ۔ ورنہ اگر لوگوں کے اندرونی حالات اور باطن دنیا کے سامنے کر دئیے جاویں تو قریب ہے کہ بعض بعض کے قریب تک بھی جانا پسند نہ کریں ۔ خدا تعالیٰ بڑا شار ہے ۔ انسانوں کے عیوب پر ہر ایک کو اطلاع نہیں دیتا ۔پس انسان کو چاہیے کہ نیکی میں کوشش کرے اور ہر وقت دعا مین لگا رہے ۔
یقنا ً جانو کہ جماعت کے لوگوں میں اور ان کے غیر میں اگر کوئی مابہ الامتیاز ہی نہیں ہے ۔ تو پھر خدا کوئی کسی کا رشتہ دار تو نہیں ہے ۔ کیا وجہ ہے کہ ان کو عزت دے اور ہر طرح حفاظت میں رکھے ۔اور اُن کو ذلت دے اور عذا ب میں گرفتار کرے ۔ اِنَّمَا یََتقَبَّلُ اللّٰہُ منَ المّتَّقِینَ ( المائدۃ : ۲۸ ) متقی وہی ہیں کہ