ہے کیونکہ وہ طیور تو نہ کسی مقابلہ میں آئے اور نہ اُن کا غلبہ ثابت ہوا ۔
غرض ایک حصہ تو ہمارے دعاوی کا حضرت عیسیؑ کی وفات ثابت کرنے کے متعلق ہے جس کو ہم نے ہرطرح سے عقل سے نقل سے اقوال ائمہ سے غرض ہر پہلو سے بیسیوں کتابیں تالیف کرے کے ثابت کر دیا ہے ۔
مسیح کی آمد ثانی
دوسرا آمد ثانی کے متعلق ہے ۔ سو وہ اللہ تعالیٰ نے خود آسمانی نشانات اور تا ئیدات سماوی کے ذریعہ سے اور آئے دن ہماری ترقی اور دشمنوں کا تنزل کر کے ظاہر کر دیا ہے ۔ ایک طوفان اور دریا کی لہر یں تا ئید اور نصرت کی خدا تعالیٰ کی طرف سے آرہی ہیں ۔ا ن کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا ۔تا زہ نشانات اور قبل از وقت زبردست کثیر پیشگوئیاں دلوں پر آثر ڈالتی ہیں ۔اور انہیں سے ترقی ہوئی ۔ ان ملانوں کے پرانے رطب ویابس جو ان کے پاس قصے کہانیوں کے رنگ میں ہیں ان سے کیا ترقی ہو سکتی ہے بلکہ تننرل کے اسباب ہیں ۔
تعجب ہے کہ یہ لوگ منبروں پر چڑھ کر رویا کرتے تھے کہ یہ تیرھویں صدی سخت منحوس ہے ۔ چودہویں صدی انعامات وبرکات کو موجب ہوگی اور امام مہدی اور مسیح موعود اس صدی میں آوے گا ۔ صدیق حسن خاں نے کئی اولیا ء اللہ کی روایات سے اپنی کتاب میں ثابت کیا ہے کہ سب کا اتفاق تھا کہ مسیح آنے والا چودھویں صدی میں آوے گا ۔ مگر خدا جانے اب لوگوں کو کیا ہو گیا۔
زبانی بیعت کی کچھ بھی حقیقت نہیں
خیرا صل بات یہ ہے کہ انسان کو اپنی صفائی کرنی چاہئیے ۔صرف زبان سے کہ دینا کہ میں نے بیعت کر لی ہے کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتا جب تک عملی طور سے کچھ کر کے نہ دکھلایا جاوے ۔صرف زبان کچھ نہیں بنا سکتی قرآن شریف میں آیا کہ لمَ تقُولُون مَا لاَ تَفعَلُونَ ۔ کَبَر مَقتًا عندَ اللّٰہ ان تَقُولُو امَا لَا تَفعَلُونَ ( اصف : ۳۔ ۴ ) یہ وقت ہے کہ سابقوں میں داخل ہو جاؤ یعنی ہر نیکی کے کرنے میں سبقت لے جاؤ اعمال ہی کام آتے ہیں ۔ زبانی لاف وگزاف کسی کام نہیں آسکتا ۔بھلا خدا کا کسی سے رشتہ تو نہیں ۔ وہاں یہ نہیں پوچھا جاوے گا کہ تیر اباپ کون ہے بلکہ اعمال کی پر سش ہو گی ۔
انسان میں کئی قسم کے گناہ کسل کبر سستیاں اور باریک در باریک گناہ ہوتے ہیں ان سب سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئیے ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں نفس انسان کے تین مرتبے بیان فرمائے ہیں ۔ انارہ ۔ نوامہ ۔ مطمنہ ۔ نفس ۔ امارہ تو ہر وقت انسانوں کو گناہ اور نافرمانی کی طرف کھینچتا رہتا ہے اور بہت خطر ناک ہے ۔ لوامہ وہ ہے کہ کبھی کوئی بدی ہو جاوے تو ملامت کرتا ہے ۔ مگر یہ بھی قابل اطمینان نہیں ہے ۔ قابل اطمینان