اعلاوہ ازیں اور بسیوں جگہ تَوَ فِّی کا لفظ موت ہی کے معنوں میں وار د ہوا ہے ۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ تَوَ فِّی فعل کا فاعل اللہ ہو اور مفعول ذی روح چیز ہوتو معنے بجز موت کوئی اور ہو سکتے ہیں ۔
مسیح کے احیاء موتی کی حقیقت
ان کے مرد سے زندہ کرنے کے معجزے کو بھی خواہ مخواہ خصوصیت دی گئی ہے ۔تعجب آتا ہے ان مولویوں پر کہ حضرت عیسی کے واسطے احیاء موتیٰ کا لفظ آوے تو حقیقی مردے زندہ ہو جاویں جو سنت اللہ اور قرآن مجید کے خلاف ہیں ۔ مگر جب وہی لفظ آنحضرت ﷺ کے واسطے آتے ہیں تو اس سے روحانی مردے بن جاتے ہیں ۔
انجیل میں لکھا ہے کہ جتنے مردے قبروں میں تھے سب زندہ ہو کر شہروں میں آگئے اس کثرت سے آپ نے مردے زندہ زندہ کئے۔ بھلا ان سے کوئی سوال تو کرے کہ ہزاروں مردے زندہ ہو کر شہروں میں آگئے ان کا گذر کیسے ہوا؟ اور دوسرا یہ کہ باوجود اتنا بڑا معجزہ دیکھنے کے پھر وہ لوگ ایمان کیوں نہ لائے ؟ ان کو کوئی سمجھا تا کہ انہوں نے اسی دعا کی اور تم زندہ ہوئے اب ان پر ایمان لے آؤ ۔کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ اتنا بڑا معجزہ نہ اُن مردوں کے واسطے مفید ہو نہ ان کے رشتہ دار وں کے واسطے جنہوں نے ان مردوں کو بحشپم خود زندہ ہوتے قبروں میں سے نکل کر شہروں میں داخل ہو تے دیکھا تھا ۔
اصل بات یہ ہے کہ علم تعبیر رؤیا میں لکھا ہے کہ جب کوئی دیکھے کہ مردے میں سے زندہ ہو کر شہروں میں آگئے ہیں تو اس کی تعبیر یہ ہوتی ہے کہ اس وقت کے نیک طبع لوگ قید سے رہائی پا جائیں گے ۔ اس وقت چونکہ خو د حضرت مسیح قید میں تھے تو ممکن ہے کہ انہوں نے خو د یا کسی اور نے یہ رؤیا یا مکاشفہ دیکھا مگر بعد میں وہ مکاشفہ یا رؤیا تو ترک کر دیا گیا اور اصل مطلب لے لیا گیا ۔ آنحضرت ﷺ کی نسبت بھی مردے زندہ کرنے کے متعلق کئی روایات تھیں مگر معتبر کتب احادیث میں ان کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ دیکھو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بڑے بڑے مشکلات جھیل کر قریب ایک لاکھ کے حدیث جمع کی ۔ مگر آخر ان میں سے صرف چالیس ہزار رکھیں باقی متروک کر دیں ۔ ہمارے مسلمان اس بارے میں بڑے محقق گذرے ہیں ۔
مسئلہ خلق طیور
اسی طرح حضرت عیسیٰ کا خلق طیور کا مسئلہ ہے ۔ ہم معجزات کے منکر نہیں بلکہ قائل ہیں ۔ حضرت عیسٰی کا خلق طیور کا مسئلہ بعینہ موسیٰ علیہ السلام کے سوٹے والی بات ہے دشمنوں کے مقابلہ کے وقت وہ اگر سانپ بن گیا تھا تو دوسرے وقت میں وہ سوٹے کا سوٹا تھا نہ یہ کہ وہ کہیں سانپوں کے گروہ میں چلا گیا تھا ۔ پس اسی طرح حضرت عیسٰی کے وہ طیور بھی آخر مٹی کے مٹی ہی تھے بلکہ حضر ت موسیٰ کا سوٹا تو چونکہ مقابلہ میں آگیا تھا اور وہ مقابلہ میں غالب ثابت ہوا تھا اس واسطے حضرت عیسیٰ ؑ کے طیور سے بہت بڑھا ہوا