۲۶ فروری ۱۹۰۸ء
بوقت سیر
ہمارے دعویٰ کے دو پہلو
مسیح کی وفات اور ان کی آمد ثانی
فرمایا کہ :۔
اصل میں ہمارے دعویٰ کے دو پہلو ہیں ایک تو حضرت عیسیٰ کی وفات دوسرا ان کی آمد ثانی ۔وفات کے متعلق تو ہم ہزاروں بار بیان کر چکے ہیں کہ قرآن شریف میں خود مسیح کا اقرار لکھا ہے ۔ فَلَمَّا تَوَ فَّیتَنی کُنتَ آنتَ الرَّقیبَ عَلَیھم (المائدہ : ۱۱۸ ) یہ عجیب نکتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بیان گو قیامت کے دن کے لئے خا ص کر دیا ہے ۔اس سے تو صاف ثابت ہے کہ حضرت عیٰسی وفات پا چکے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوال کے جواب میں کہ کیا ایسے مشرکانہ خیالات اور عقائد تم نے ان لوگوں کو بتائے ہیں ۔ حضرت مسیح صاف انکار کرتے ہیں اور کانوں پر ہاتھ رکھتے ہیں ۔کہ یا الہٰی میں نے تو ان کو توحید کی تعلیم دی تھی ۔یہ مشرکانہ تعلیم میری وفات کے بعد انہوں نے اختیار کی ہے ۔ میں اس کا ذمہ دار نہیں ہوں ۔چاہے تو ان کو عذاب دے اور چاہے تو ان کو بخش دے تیرے بندے ہیں ۔اب صاف بات ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ دوبارہ دنیا میں آئے ہوتے اور عیسائیوں کے ایسے فاسد عقائد کی اصلاح کی ہوتی تو بڑے زور سے عرض کرتے کہ یا اللہ میں نے بڑے بڑے جنگ کئے ہیں اور بہت مشکلات اُٹھا کر ان کے مشرکانہ خیالات اور عقائد کی جگہ دو بار ہ تیری توحید ان میں قائم کی ہے ۔ میں تو بڑے انعامات کا مستحق ہوں چہ جائیکہ مجھ سے سوال کیا جاتا ۔ غرض خو د ان کے بیان سے ظاہر ہے کہ وفات پا چکے اور دوبارہ دنیا میں نہیں آئیں گے ۔
پھر آنحضرت ﷺ نے ان کو معراج کی رات مردوں میں دیکھا ۔بھلا زندوں کو مردوں سے کیا تعلق ؟ اگر مسیح زندہ تھے تو پھر مردوں میں کیوں جاشامل ہوئے ؟
اس کے سوا سینکڑوں مقامات قرآن شریف میں ہیں جن سے ان کی وفات ثابت ہے ۔
عجیب بات ہے کہ یہی توفی کا لفظ ہے جب اوروں کے واسطے آوے تو اس کے معنے موت کے کئے جاتے ہیں اور جب حضرت عیسیٰ کے واسطے آوے تو کچھ اور کئے جاتے ہیں ۔ نہ معلوم یہ خصوصیت حضرت عیسیٰ کو کیوں دی جاتی ہے ۔ دیکھو حضرت یوسف کی دعا ہے تَوَ فَّنیِ مُسلِمَاً وَّ اَ لحقنی بالصَّالحینَ (یوسف : ۱۰۲)