۲۵فروری ۱۹۰۸ء
قبل نماز عصر
والدین کی فرمابنرداری بجا لیکن خد ا تعالیٰ کا حق مقدم ہے
ایک شخص نے سوال کیا کہ یا حضرت : والدین کی خدمت اور ان فرما نبرداری اللہ تعالیٰ نے انسان پر فرض کی ہے مگر میرے والدین حضور کے سلسلہ بیعت میں داخل ہونے کی وجہ سے مجھ سے سخت بیزار ہیں ۔اور میری شکل تک دیکھنا پسند نہیں کرتے ۔چنانچہ جب میں حضور کی بیعت کے واسطے آنے کو تھا تو انہوں نے مجھے کہا کہ ہم سے خط وکتابت بھی نہ کرنا اور اب ہم تمہاری شکل بھی پسند نہیں کرتے اب میں اس فرض الہٰی کی تعمیل سے کس طرح سبکدوش ہو سکتا ہوں ۔
فرمایا کہ :۔
قرآن شریف جہاں والدین کی فرما بنرداری اور خدمت گذاری کا حکم دیتا ہے وہاں یہ بھی فرماتا ہے کہ رَبُّکُم آعلمَ بِمَا فیِ نُفُو سِکُم ان تَکُو نُو اصَالحِینَ فَاِ نَّہٗ کَانَ للٓا وَّ ابینَ غَفُوراً ( بنی اسرائیل : ۲۶) اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اگر تم صالح ہو تو وہ اپنی طرف جھکنے والوں کے واسطے غفور ہے ۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی بعض ایسے مشکلات پیش آگئے تھے کہ دینی مجبوریوں کی وجہ سے ان کی ان کے والدین سے نزاع ہو گئی تھی ۔ بہر حال تم اپنی طرف سے ان کی خریت اور خبر گیری کے واسطے ہر وقت تیار رہو ۔ جب کوئی موقعہ ملے اس ہاتھ سے نہ دو ۔تمہاری نیت کا ثواب تم کو مل کے رہے گا ۔ اگر محض دین کی وجہ سے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم کرنے کے واسطے والدین سے الگ ہونا پڑا ہے تو یہ ایک مجبوری ہے ۔ اصلاح کو مد نظر رکھو اور نیت کی صحت کا لحا ظ رکھو اور ان کے حق میں دعا کرتے رہو ۔یہ معاملہ کوئی آج نیا نہیں پیش آیا حضرت ابراہیم ؑ کو بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا ۔بہر حال خدا کا حق مقدم ہے ۔ پس خدا تعالیٰ کا مقدم کرو اور اپنی طرف سے والدین کے حقوق ادا کرنے کی کو شش میں لگے رہو ۔ اور اُن کے حق میں دعا کرتے رہو اور صحت نیت کا خیال رکھو ۔ ۱؎