پھر تقیہ جس سے بری بات کوئی نہیں ہو سکتی یعنی جس سے دب گئے یا جہاں کوئی اپنا مطلب جاتا دیکھا وہاں اپنے عقیدہ سے انکار کر دیا ۔ پھر بتائیں کہ ان کی کوئی عمد تفسیر بھی ہے جس سے معلوم ہو کہ یہ لوگ کلام الہیہ کے واقف ہیں ۔ ہم نے تو جو تفسیر دیکھی ان میں ہر ایک آیت کے یہی معنی دیکھے کہ یہ علی کے حق میں ہے مقطعات میں بھی یہی خبط رہا ہے ۔ کٓھٰیٰعٓضٓ۔ ک سے مراد کربا ہے ۔ پھر توحید جو مذہب اسلام کی روح ہے ۔ اس کا یہ حال کہ آریہ باوجود سخت معاند اسلام ہونے کے ان سے اچھے ہیں جو ہزار رہابتوں کی پر ستش سے نفرت رکھتے ہیں اور ان لوگوں نے بت پرستی کو از سر نو جاری کر دیا ۔ اجی کوئی پتھر پر ست یا درخت پرست یا انسان پر ستک ہو ۔ ایک ہی بات ہے ۔ یہ امام حسین کے فضائل پیشک بیان کریں ہم منع نہیں کرتے اور جس حد تک انبیاء کرام کی تکذیب لازم نہ آئے اور راستبازوں کی ہتک نہ ہو ہم ماننے کو تیار ہیں مگر یہ تو نہیں کہ انہیں خدا بنا لیں ۔ اگر واقعی ان کا امام حسین ؑ سے محبت ہے تو ان کی پیروی کریں ۔جس سے انسان کو محبت ہو وہ اس کے رنگ سے رنگین ہونا چاہتا ہے اور اُس کے سے کام کرنا اپنا دین وایمان سمجھتا ہے ۔ اتنے پیغمبر گذرے ہیں کیا کبھی کسی نے کہا ہے کہ میری بندگی کرو ؟ اصل بات تو یہ ہے کہ دور دور سے گمراہوں کو جو اسلام میں ہو کر اس درجہ تک پہنچے ہدایت پانا نسبتًا مشکل ہے ۔ امام حسین ؑ کو میں نے دو مرتبہ دیکھا کہ دور سے ایک شخص چلا آرہا ہے اور میری زبان سے یہ لفظ نکلہ ۔ ابو عبداللہ حسین پھر دوبارہ دیکھا۔ آداب مجلس ہمارا مذہب تو یہ ہے اور یہی مومن کا طریق ہونا چاہئے کہ بات کرے تو پوری کرے ۔ ورنہ چپ رہے ۔جب دیکھو کہ کسی مجلس میں اللہ اور اس کے رسول پر ہنسی ٹھٹھا ہو رہا ہے تو یا تو وہاں سے چلے جاؤ تا کہ ان میں سے نہ گئے ۔ جاؤ اور یا پھر پورا پورا کھول کو جواب دو دو باتیں ہیں جواب یا چپ رہنا ۔ یہ تیسرا طریق نفاق ہے کہ مجلس میں بیٹھے رہنا اور ہاں ملائے جانا ۔دبی زبان سے اخفاء کے ساتھ اپنے عقیدہ کا اظہار کرنا ٍ۱؎