آدم گناہ کرکے توبہ نہ کرتا اور خدا تعالیٰ کی طرف نہ جھکتا تو صفی اللہ کا لقب کہاں سے پاتا؟ اگر کوئی انسان ایسا اپنے آپ کو دیکھتا کہ جیسا ماں کے پیٹ سے نکلا ہے اور اپنے اندر کوئی گنا ہ نہ دیکھتا تو اس کے دل میں تکبر پیدا ہوتا جو تمام گناہوں سے بڑا گناہ ہے اور شیطان کا گناہ ہے ۔ شیطان نے گھمنڈ کیا کہ میں نے کوئی گناہ نہیں کیا اسی واسطے وہ شیطان بن گیا۔ گناہ جو انسان سے صادر ہوتاہے وہ نفس کو توڑنے کے واسطے ہے ۔ جب انسان سے گناہ ہوتاہے تو وہ اپنی بدی کا اقرار کرتاہے اوراپنے عجز کو یقین کرکے خدا تعالیٰ کی طرف جھکتاہے ۔ جس طرح مکھی کے دو پر ہیںکہ ایک میں زہر ہے اور دوسرے میں تریاق ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر تمہارے کھانے پینے کی چیز میں مکھی پڑے تو وہ اپنا صرف ایک پر اس کے اندر ڈبوتی ہے جس میں زہر ہے پر تم اس کو نکالنے سے پہلے اس کا دوسرا پر بھی ڈبو لو کہ وہ اس کے بالمقابل تریاق ہے اور گناہ کے زہر کو دور کر دیتی ہے ۔ عاجزی اور تضرع سے خدا تعالیٰ کے حضور میں جھکو تاکہ تم پر رحم کیا جاوے ۔ اگر گناہ نہ ہوتا تو ترقی بھی نہ ہوتی ۔ جو شخص جانتاہے کہ میں نے گناہ کیا ہے اور اپنے آپ کو ملزم دیکھتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے تب اس پر رحم کیا جاتاہے اور وہ ترقی پکڑتا ہے ۔ لکھاہے ۔ اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہٗ۔ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے کہ گویا اس نے کبھی اس گناہ کا مرتکب نہ ہوگا گو بعد میں بہ سبب کمزوری کے ہو جاوے لیکن توبہ کرنے کے وقت اپنی طرف سے یہ پختہ ارادہ اور سچی نیت رکھتاہو کہ آئندہ یہ گناہ نہ کرے گا ۔ نیت میں کسی قسم کا فساد نہ ہو بلکہ پختہ ارادہ ہوکہ قبر میں داخل ہونے تک اس بدی کے قریب نہ آئے گا تب وہ توبہ قبول ہو جاتی ہے ۔ لیکن خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو امتحان میں ڈالتا ہے تاکہ ان کو انعام دیوے ۔ انعام حاصل کرنے کے واسطے امتحانوں کا پاس کرنا ضروری ہے۔
نماز کے اندر دُعا:۔
فرمایا:۔
نماز کے اندر ہی اپنی زبان میں خدا تعالیٰ کے حضور دُعا کرو۔ سجدہ میں ، بیٹھ کر ، رکو ع میں، کھڑے ہو کر ، ہر مقام پر اللہ تعالیٰ کے حضور دُعا کرو۔ بیشک پنجابی زبان میں دُعا ئیں کرو۔ جن لوگوں کی زبان عربی نہیں اور عربی سمجھ نہیں سکتے۔ اُن کے واسطے ضروری ہے کہ نماز کے اندر ہی قرآن شریف پڑھنے اور مسنون دُعائیں عربی میں پڑھنے کے بعد اپنی زبان میں بھی خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگے اور عربی دُعائوں کا اور قرآن شریف کا بھی ترجمہ سیکھ لینا چاہیئے ۔ نماز کو صرف جنتر منتر کی طرح نہ پڑھو بلکہ اس کے معافی اور حقیقت سے معرفت حاصل کرو۔ خدا تعالیٰ سے دُعا کرو کہ ہم تیرے گنہگار بندے ہیں اور نفس غالب ہے تو ہم کو معاف کر اور دُنیا اور آخرت کی آفتوں سے ہم کو بچا۔