ہی خسرو پرویز ۔تو وہ خدا کی بات ہے ۔ خود اس کے گھر میں ایک شخص نے آنحضرت ﷺ کے ایک غلام سے مباہلہ کیا ۔ مدت مقررہ کے اندر مر کر گواہی دے گیا ۔
اسلام کی فتح
پھر اس آریہ نے لکھا کہ کہ الہامی کتاب وہ ہے جس سے اللہ کے علاوہ درجہ کے اخلاق ظاہر ہوں ۔
فرمایا :۔
یہ سچ ہے اور اس میں بھی اسلام ہی کی فتح ہے ۔ یہ آریہ اللہ کے رحیم وغفور ہونے کے قائل نہیں ۔حالانکہ ان میں سے کوئی مقدمہ میں پھنس جائے تو یہ دل سے چاہتا ہے کہ خواہ میں قصور کیا ہے مجھے حاکم بخش دے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی فطرت چاہتی ہے ہ اس کا حاکم غفور رحیم ہو ۔ پھر باوجود اس کے اللہ کے اس صفت سے انکار ایک ہٹ دھرمی ہے ۔ ۱؎
۱۰ فروری ۱۹۰۸ء
بوقت ظہر
شیعوں کا مبالغہ
فرمایا :۔
شیعوں نے مباہلہ کی حد کر دی ۔ایک شیعہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے تمام انبیاء حتَّی کہ آنحضرت ﷺ بھی امام حسینؓ کی شفاعت کے محتاج ہیں ۔پھر کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ پر وحی آئی تھی مگر جبر یل بھول گیا ۔ اور یہ بھی لکھا ہے کہ آنحضر ت ﷺ جب معراج کو گئے تو آگے علی ؓ موجود تھے اور ایک شخص حضرت علی ؓ کو خدا کہتا ہے تو کہا کہ اچھا لاکھوں کروڑوں بند سے خد ا کے اور ایک بندہ تو میرا ہی سہی ۔گویا حضرت علی ؓ کو خدا بنا دیا ہے ۔تعجب ہے کہ علی آسمان پر تو خدا ہے مگر زمین پر نبی کریم ﷺ کا صرف ایک صحابی ہے جو معمولی خلافت کو بھی نہ سنبھال سکا ۔ معلوم نہیں کہ لوگ شیعہ ( مذہب ) میں کونسا اسلا م پاتے ہیں ۔آنحضرت ﷺ کے کل صحابہ ؓ کو سوائے دو چار کے یہ مرتد کہتے ہیں ۔اُمہات المومنین پر سخت اعتراض کرتے ہیں ۔ قرآن کو بیاض عثمانی قرار دیتے ہیں ۔ جس قوم کے پاس کتاب اللہ نہیں اس کا مذہب ہی کیا ہوا ۔ کیا گالیاں دینا اور گھر بیٹھ کر دوسروں پر اور مرے ہوؤں پر تبر بھجتے رہنا یہ بھی کوئی مذہب ہے ؟