مسیح موعود علیہ السلام کا دعوی نبوت
ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں ۔ اصل میں یہ نزاع لفظی ہے ۔ خدا تعالیٰ کے سا تھ ایسا مکالمہ مخاطبہ کرے جو بلحاظ کمیت وکیفیت دوسروں سے بڑھ کر ہو اور اس میں پشگوئیاں بھی کثرت سے ہوں اسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے پس ہم نبی ہیں ۔ ہاں یہ نبوت تشریعی نہیں جو کتاب اللہ کو منسوخ کرے اور نئی کتاب لائے ۔ ایسے دعویٰ کو تو ہم کفر سمجھتے ہیں ۔ نبی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ۔ صرف خد ا کی طرف پیشگوئیا ں کرتے تھے جن سے موسوی دین کی شوکت وصداقت کا اظہار ہوتا ۔پس وہ نبی کہلائے ۔ یہی حال اس سلسلہ میں ہے ۔بھلا اگر ہم نبی نہ کہلائیں تو اس کے لیے اور کونسا امتیازی لفظ ہے جو دوسرے ملموں سے ممتا ز کرے ۔
دیکھو ۔ اور لوگوں کو بھی بعض اوقات سچے خواب آجاتے ہیں بلکہ بعض دفعہ کوئی کلمہ بھی زبان پر جاری ہو جاتا ہے جو سچ نکل آتا ہے ۔ یہ اس لیے تا اُن پر حجت پوری ہو اور وہ یہ نہ کہہ سکیں ۔ کہ ہم کو یہ حواس نہ دئیے گئے پس ہم سمجھ نہیں سکتے کہ یہ کس بات کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ آ پ کو سمجھانا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ کس قسم کی نبوت کے مدعی ہیں ۔
ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے ۔ یہودیوں عیسائیوں ہندوؤں کے دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لیے کہ اُن میں اب کوئی نبی نہیں ہوتا ۔اگر اسلام کا یہی حال ہوتا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرے کس لیے اس کو دوسرے دینوں سے بڑھ کر کہتے ہیں ۔ مکالمہ مخاطبہ الہیہ ہونا چاہیے اور وہ بھی ایسا کہ جس میں پیشگوئیاں ہوں اور بلحا ظ کمیت وکفیت کے بڑھ چڑھ کر ہو ۔ایک مصرعہ سے تو شاعر نہیں ہو سکتے ۔اسی طرح معمولی ایک دو خوابوں یا الہاموں سے کوئی مدعی رسالت ہو تو وہ جھوٹا ہے ۔ ہم پر کئی سالوں سے وحی ناز ل ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں۔اسی لیے ہم نبی ہیں امر حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفاء نہ رکھنا چاہئیے۔
آنحضرت ﷺ کی پا ک زندگی
فرمایا :۔
آریہ اعتراض کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی زندگی پوتر نہیں تھی ۔یہ ان لوگوں کی سخت غلطی ہے کیونکہ پاک ہونا بہت کچھ دل سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا حال سوائے اللہ کے اور کسی کو معلوم نہیں ۔ پس پاک وہ ہے جس کے پاک ہونے پر خدا گواہی دے ۔ دیکھو ابو جہل نے مباہلہ کیا تھا کہ جو ہم میں افسَدُ للقُومِ اور اقطَعُُ اللّرحمِ ہے اسے ہلاک کر ۔ وہ ایس روز ہلاک ہو گیا ۔ ایسا