بلا تا ریخ۲؎
امر حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفا نہیں رکھنا چاہیے
ایک مخلص بھائی نے اپنا قصہ سنایا کہ ایک نواب ریاست نے جو شیعہ ہے اُن سے آپ کے بارے میں چند سوال کئے او ر ان کے میں نے یہ جواب دئیے مرزا صاحب کا آل نبیؑ کے بارے میں کیا عقیدہ ہے ۔ ہم سنتے ہیں کہ وہ ان کی توہین کرتے ہیں ۔ ؟
انہوں نے جواب دیا کہ ان کا ایک شعر ہے ۔ ؎
جان ودلم فدائے جمال محمد ؑ است
خاکم نثار کو چئہ آل محمد ؑ است
دو یہ کہ یزید کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے انہوں نے یہ شعر پڑھا ۔
ہر طرف کفر است جو شاں ہمچو افواج یزید
دین حق بیمار وبیکس ہمچو زین العابدین
جب اس طرح کوئی اعتراض کا موقعہ نہ پایا تو پوچھا کہ تم ان کے نہ ماننے والوں کو کیا سمجھتے ہو ؟ انہوں نے کہا جو مہدی موعود کے مخالفین کو سمجھنا چاہئیے اور جو کچھ اہل سنت وشیعہ سمجھتے ہیں ۔
پوچھا کہ رسالت کے مدعی ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ان کا ایک شعر ہے ۔؎
من نیستم رسول ونیاور وہ اُم کتاب ہاں ملہم استم وزخداوند منذرم
اس پر دوسرے روز فرمایا کہ
اس کی تشریح کر دینا تھا کہ ایسا رسول ہونے سے انکار کیا گیا ہے جو صاحب کتاب ہو ۔ دیکھو جو امور سماوی ہوتے ہیں ۔ ان کے بیان کرنے میں ڈرنا نہیں چاہئیے اور کسی قسم کا خوف کرنا اہل حق کا قاعدہ نہیں ۔صحابہ کرام کے طرز عمل پر نظر کرو ۔ وہ با دشاہوں کے د ر باروں میں گئے اور جو کچھ ان کا عقیدہ تھا وہ صاف صا ف کہہ دیا ۔
اور حق کہنے سے ذرا نہیں جھجکے جبھی تو لَا یَخَافُونَ لَومَۃَ لآ ئمِِ ( المائدۃ :۵۵ ) کے مصداق ہوئے ۔