کھائے ۔اخیر عمر تک یہ حا ل رہا پس جب ہمارے مقتداء وپیشوا کے ساتھ ایسا ہو تو پھر اس پر ایمان لانے والے کو ن ہیں جو بچے رہیں ۔ایسے ابتلاء جب آویں تو مردانہ طریق سے ان کا مقابلہ کرنا چاہیے ۔ ابتلاء اسی واسطے آتے ہیں کہ صادق جدا ہو جائے اور کاذب جدا ۔خد ا رحیم ہے مگر وہ غنی اور بے نیا زبھی ہے جب انسان اپنے ایمان کو استقامت کے سا تھ مد نہ دے ۔ تو خدا تعالیٰ کی مد د بھی منقطع ہو جاتی ہے ۔ بعض آدمی صرف اتنی سی بات سے دہر یہ ہو جاتے ہیں ۔ کہ ان کا لڑکا مر گیا یا بیوی مر گئی یا رزق کی تنگی ہو گئی حالانکہ یہ ایک ابتلا تھا جس میں پورا نکلتے تو انہیں اس سے بڑھ کر دیا جاتا ار رزق کی تنگی سے پرا گندہ دل ہونا مومن کا کام متقی کا شیوہ نہیں یہ جو ۔ ؎ پراگندہ روز ی پراگندہ دل کہتے ہیں ۔اس کے یہ معنے ہیں جو پرگندہ دل ہو وہ پراگندہ روزی رہتا ہے ۔ اور اول تو صادقوں کے سوانح دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے خو د اپنے تئیں پراگندہ روزی بنا لیا ۔ کیونکہ حضرت ابو بکر ؓ تا جر تھے ۔ بڑے معز ز آنحضرت ﷺ پر ایمان لا کر سب کو دشمن بنا لیا ۔ کار وبار میں بھی فرق آگیا یہاں تک کہ اپنے شہر سے بھی نکلے یہ بات خوب یاد رکھو کہ سچا تقویٰ ایسی چیز ہے جس سے تمام مشکلات حل ہو جاتی ہیں اور کل پراگندگیوں سے نجات ملتی ہے ۔ جھوٹے ہیں وہ لوگ جو خدا تعالیٰ پر تہتمیں دیتے ہیں ۔تمام انبیاء وراستبازوں کی گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ رحیم وکریم کوئی نہیں ۔ انسان جو حد سے زیا دہ تنگ ہوجاتا ہے تو اس کی اپنی ہی غلطی کا نتیجہ ہے ۔ توکل میں کمی ہوتی ہے صدق قدم نہیں ہوتا صحیح طور سے مومن معلوم کرنا مشکل ہے انسان کہہ سکتا ہے میں صالح ہوں زاہد ہوں مگر خدا کے نزدیک وہ بد کار ہو تا ہے ۔ ایسے ہی بعض ایسے بندے بھی ہیں جو لوگوں میں برے سمجھے جاتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک وہی صالح ہیں ۔دیکھو ابو جہل نے آنحضرت ﷺ کو بہت بُرا سمجھا مگر اللہ کے نزدیک آپ سرور کائنات تھے ۔ ابو جہل کو آپ ؑ کے بُرے ہونے پر یقین تھا کہ اُس نے مباہلہ تک کر لیا اور کہا ۔ آللّٰھّمَّ من کَانَ اافسَدُ للقُومِ وَاَقطَعُ لِلرِّحمِ فا ھللکہُ الیومَ ۔ معلوم ہوتا ہے اسے پکا یقین تھا جبھی تو یہ کلمات کہے مگر اس کا نتیجہ کیا ہوا ؟ کہ خدا تعالیٰ نے فعلی رنگ میں ظاہر کر دیا کہ صادق اور پاکباز کون ہے اور کاذب اور بدکار کون اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَو کُنَّا فَسمَعُ اَونَعقَلُ مَا کُنَّا فی آصحٰبِ السَّعیرِ ( الملک : ۱۱ ) علم صحیح اور عقل سلیم یہ بھی خو ش قسمتی کی نشانیاں ہیں ۔جس میں شقاد تہو اس کی مت ماری جاتی ہے وہ نیک کو بد اور بد کو نیک سمجھتا ہے ۔ ۱؎