غفلت اور اہل حق کو ستانے اور دکھ دینے کی سزا اسی دنیا میں دی جاتی ہے ۔ نوح کے وقت جو عذاب آیا اگر خدا تعالیٰ کے رسول کو نہ ستانے تو وہ عذاب نہ آتا ۔یہ شوخی پر اس لیے عذاب آتا ہے کہ ایک چور دوسرا چتر دنیا دار المکافات نہیں ۔اس میں دست بدست سزا صرف اُسے ملتی ہے جو بد معاشی کرے ۔ جو شرافت کے سا تھ گناہ میں گرفتار ہو تو اس کی سزا آخرت میں ہے اور اب جو دنیا میں عذاب آیا تو اسی لیے کہ دلیری شوخی شرارت حدسے بڑھ گئی ایسی کہ گویا خدا ہے ہی نہیں ۔ طاعون نے اس قدر سخت بربادی کی مگر ابھی اُن کے دلوں نے کچھ محسوس نہیں کیا ۔ پوچھو تو ہنسی ٹھٹھے میں گذار دیتے ہیں ۔ بعض کہتے ہیں معمولی بیماری ہے گویا خدا کی قضاء وقدر سے منکر ہیں ۔ بیشک یہ بیماری ہے مگر انہی بیماریوں سے عذاب آیا کرتا ہے ۔ یہودیوں پر جب یہ وباپڑی تو خدا تعالیٰ نے اسے عذاب فرمایا یا رکھو کہ جب خدا تعالیٰ چاہتا ہے انہیں بیماریوں کو شدت وکثرت میں بڑھا کر ہلاک کر دیتا ہے ۔ان لوگوں کی بقینی کی یہ علامت ہے کہ عذاب کو عذاب نہیں سمجھتے ۔خد ا تعالیٰ رحیم ہے ۔ سزا دئیے ہیں میں دھیماہے مگر یہ لوگ یاد رکھیں کہ جب تک وہ وقت نہ آئے گا کہ پکارا اُٹھیں ’’ اب ہم سمجھتے ۔خد ا تعالیٰ رحیم ہے ۔ سزا دئیے میں دھیما ہے مگر یہ لوگ یاد رکھیں کہ جب تک وہ وقت نہ آئے گا کہ پکار اُٹھیں اب ہم سمجھے ۔یہ عذاب ہٹنے کا نہیں ۔ اس کا علاج وہی ہے جو ہم بار ہا دفعہ بتا چکے ہیں ۔یعنی تضرع وانابت الیٰ اللہ ۱؎
۳فروری ۱۹۰۸ء
مومن پر ابتلا نہ آنا سنت اللہ کے خلاف ہے
خدا تعالیٰ کے مامور پر ایمان لانے کے ساتھ ابتلاء ضروری ہے ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَحَسِبَ النَّاسُ آن یُّترَکَوآ اَن یَّقَولوُ آمنَّا وَھُم لَا یُفتَنُونَ
(العنکبوت :۳) کیا لوگوں نے سمجھا کہ چھوڑے جائیں گے یہ کہنے پر کہ ہم ایمان لائے اور آزمائے نہ جائیں گے ۔ گویا ایمان کی شرط ہے آزماناے جانا ۔ صحابہ کرام کیسے آزمائے گئے ۔ ان کی قوم نے طرح طرح کے عذاب دئیے اُن کے اموال پر بھی ابتلاء آئے جانوں پر بھی خویش واقارب پر بھی اگر ایمان لانے کے بعد آسائش کی زندگی آجا وے تو اندیشہ کرنا چاہییے کہ میرا ایمان صحیح نہیں کیونکہ یہ سنت اللہ کے خلاف ہے کہ مومن پر ابتلاء نہ آئے ۔آنحضرت ﷺ سے بڑھ کر کوئی نہیں ہو سکتا ۔ وہ جب اپنی رسالت پر ایمان لائے تو اسی وقت سے مصائب کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ عزیزوں سے جدا ہوئے ۔ میل ملاپ بند کیا گیا ہے ملک سے نکالے گئے ۔ دشمنوں نے زہر تک دے دیا ۔ تلواروں کے سامنے زخم