یہ تکلفات ہیں جو ہم نہیں چاہتے ۔خدا کا وہ نشان ہوتا ہے جو دل بول اُٹھیں بلکہ دشمن بھی کہدیں کہ یہ بات ہو گئی گو دشمن کا اقرار زبان سے محال ہے مگر تا ہم نشان وہ ہوتا ہے جو اپنی عظمت سے رعب ڈال دے ۔
دعا کی دو قسمیں
فرمایا :۔
جو خط آتا ہے میں اُسے پڑھ کر اس وقت تک ہاتھ سے نہیں دیتا جب تک دعا نہ کر لوں کہ شاید موقعہ نہ ملے یا یاد نہ رہے ۔مگر دعا دو قسم کی ہے جو اس کوچہ میں داخل ہو وے وہی خوب سمجھتا ہے ۔ ایک معمولی ۔ایک شدت توجہ سے ۔ا ور یہ آخری صورت ہر دعا میں میسر نہیں آتی ۔ سوز اور قلق کا پیدا ہونا اپنے اخیتار میں نہیں ۔کوئی مخلص ہو تو اس کے لئے خود ہی دعا کرنے کو جہ چاہتا ہے ۔یوں تو ہر ایک شخص جو ہماری جماعت میں داخل ہے اس کے لئے ہم دعا کرتے ہیں ۔مگر مذکورہ بالا حالت ہر ایک کے لیے میسر نہیں آتی ۔یہ اخیتاری بات نہیں پس جسے جوش دلانا ہو وہ زیادہ قرب حاصل کرے ۔
حقیقی دعا
دعا دو قسم ہے ۔ ایک تو معمولی طور سے دو وہ جب انسان اُسے انتہا تک پہنچا دیتا ہے ۔ پس یہی دعا حقیقی معنوں میں دعا کہلاتی ہے ۔
انسان کو چاہیے کہ کسی مشکل پڑنے کے بغیر بھی دعا کرتا رہے ۔کیونکہ اسے کیا معلوم کہ خدا تعالیٰ کے کیا ارادے ہیں اور کل کیا ہونے والا ہے ۔ پس پہلے سے دعا کر رکھی ہو تو اُس آڑے وقت میں کام آتی ہے ۔
مکر کے معنے
فرمایا :۔
جب انسان مکر کرتا ہے تو اس کے ساتھ خد ا تعالیٰ بھی مکر کرتا ہے ۔مکر کا مقابلہ کرمکر کرے جب ہی بات بنتی ہے نادان مکر کے لفظ پر اعتراض کرتے ہیں ۔یہ زبان کی نا واقفیت کی وجہ سے ہے اس میں کوئی بری بات نہیں مکر اس باریک تدبیر کو کہتے ہیں جو خبیث آدمی کے دفع کے لئے جائے اسی لئے خدا تعالیٰ نے اپنا نام خَیرُ المَا کِرینَ ( ال عمران :۵۵ ) رکھا ۔
عذاب کا فلسفہ
جب لوگ حد سے زیادہ دنیا میں دل لگاتے ہیں ۔خدا تعالیٰ سے بے پروائی اخیتار کرتے ہیں ۔تو انہیں متنبہ کرنے کے لئے عذاب نازل ہوتا ہے ۔دیکھو طاعون کیسی تباہی ڈال رہی ہے ۔ ایک کو دفن کر کے آتے ہیں تو دوسرا جنازہ تیار ہوتا ہے ۔
یاد رکھو کہ بت پرستی انسان پرستی انسا ن پرستی ۔مخلوق پرستی کی سزا آخرت میں ہے ۔ مگر شوخیوں بد معاشیوں ظلم وتعدی