ساتویں دن ۔ا گر نہ ہو سکے تو پھر جب خدا تعالیٰ توفیق دے ۔ ایک روایت میں ہے آنحضرت ﷺ نے اپنا عقیقہ چالیس سال کی عمر میں کیا تھا ۔ ایسی روایات کو نیک ظن سے دیکھنا چاہئیے ۔جب تک قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کے خلاف نہ ہو ں ۔ مسجد کے ستوتون کے درمیان نماز پیل باپوں کے بیچ میں کھڑے ہونے کا ذکر آیا کہ بعض احباب ایسا کرتے ہیں ۔ فرمایا :۔ اضطراری حالت میں تو سب جائز ہے ۔ ایسی باتوں کا چنداں خیال نہیں کرنا چاہئے اصل بات تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا مندی کے موافق خلوص دل کے ساتھ اس کی عبادت کی جائے ان باتوں کی طرف کوئی خیال نہیں کرتا ۱؎ ۲۶جنوری ۱۹۰۸؁ء قرب قیامت سے مراد ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور نے اپنی تقریر جلسہ ماہ دسمبر میں فرمایا تھا کہ قیامت آنے والی ہے اور اس کا وقت قریب ہے ۔ کیا اس سے یہ مراد ہے کہ کچھ سالوں کی بات ہے ؟ فرمایا کہ :۔ قرآن بھی بھی ہے اِقترَ بَتِ السَّاعَۃُ ( القمر : ۲ ) اور ایسی دیگر آیات پس سمجھ سکتے ہو کہ قریب کے کیا معنے ہیں ۔قرب الساعۃ کے جو نشانات تھے وہ تو ظاہر ہو چکے جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ آخری زمانہ ہے ۔آنحضرت ﷺ کو جب کوئی ہولناک واقعہ پیش آتا تو فر ماتے کہ قیامت آگئی ۔ نشان وہ ہوتا ہے جو اپنی عظمت سے رعب ڈال دے ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ حضور کا الہام تھا ۔ستائیس کو خوشیاں منائیں گے ۔سو ۲۷ ماہ پوہ کو بارش ہو گئی اور لوگوں نے خوشیاں منائیں َ ۔ فرمایا۔