ہوتی ہے ۔
دہلی میں سخت مخالفت ہوئی ۔آخر میں نے کہا کہ تیرہ سو برس وہ نسخہ (حیات مسیح ) آزمایا ۔ اس کا نتیجہ دیکھا کہ کئی مرتد ہو گئے۔ اب یہ نسخہ وفات مسیح ) آزما دیکھو دیکھو کیا نتیجہ نکلتا ہے ایک شخص بے اخیتار اُٹھ کھڑا ہوا ۔اور کہا حق وہی ہے جو آپ فرماتے ہیں ۔ غرض قول موجہ بڑی نعمت ہے ۔ کسی نے کیا اچھا ہے ۔ ۱؎
ایہو ہیگی کیمیا جو کوئی جانے بول
پیغام حق پہنچانے کا طریق
ہر ایک کو ایسی بات کرنی نہیں آتی ۔پس چاہئیے کہ جب کلام کرے تو سو چکر اور مختصر کام کی بات کرے ۔
بہت بحیثں کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا ۔ پس چھوٹا سا چٹکلہ کسی وقت چھوڑ دیا جو سیدھا کان کے اندر چلائے پھر کبھی اتفاق ہوا تو پھر سہی غرض آہستہ آہستہ پیغام حق پہنچاتا رہے اور تھکے نہیں کیونکہ آجکل خدا کی محبت اور اس کے ساتھ تعلق کو لوگ دیوانگی سمجھتے ہیں ۔ اگر صحابہ ؓ اس زمانہ میں ہو تے تو لوگ انہیں سودائی کہتے اور وہ انہیں کافر دیر سے ہوتا ہے ۔ ایک شخص علیگڑھی غالباً تحصلدار تھا ۔ میں نے اُسے کچھ نصیحت کی ۔ وہ مجھ سے ٹھٹھا کرنے لگا ۔میں نے دل میں کہا میں بھی تمہارا پیچھا نہیں چھوڑنے کا ۔ آخر باتیں کرتے کرتے اس پر وہ وقت آگیا کہ ہو یا تو مجھ پر تمسخر کر رہا تھا ۔یا چیخیں مار مار کر رونے لگا ۔ بعض وقت سعید آدمی ایسا معلوم ہو تا ہے جیسے شقی ہے ۔
یاد رکھو ۔ہر قفل کے لیے ایک کلید ہے ۔ بات کے لئے بھی ایک چابی ہے ۔ وہ مناسب طرز ہے ۔ جس طرح دواؤں کی نسبت میں نے ابھی کہا ہے کہ کوئی کسی کے لئے مفید اور کوئی کسی کے لئے مفید ہے ۔ ایسے ہی ایک ایک بات خا ص پیرائے میں خا ص شخص کے لئے مفید ہو سکتی ہے ۔یہ نہیں کہ سب سے یکساں بات کی جائے ۔ بیان نازک ہوتا ہے اور دنیا سے غافل بھی ہوتے ہیں بہت باتیں سن بھی نہیں سکتے ۔انہیں کسی موقعہ پر کسی پیرائے میں نہایت نرمی سے نصیحت کرنا چاہئیے ۔ ۱؎
عقیقہ کس دن کرنا چاہئیے
عقیقہ کی نسبت سوال ہوا کہ کس دن کرنا چاہیے
فرمایا :۔