سلطان ۱؎ المعظم نے وزراء سے ایک امر کی نسبت مشورہ کیااور اس کے متعلق تجویزیں پو چھیں ۔ جب سب تجویزیں بیان ہو چکیں تو کہا کہ اور تو سب کچھ کہا مگر یہ کسی نے نہ کہا کہ دعا بھی کرو ۔آخر مسلمان کا بچہ تھا ۔کچھ نہ کچھ خدا پرستی تو تھی ۔ سلطان المعظم جمعہ کی نماز کو بھی جا تا ہے ۔ فقراء سے بھی نیاز رکھتا ہے اس لئے اچھا ہے ۔ اس زمانہ کی ضلالت خدا تعالیٰ ابتداء زمانہ میں بولا کہ میں تیرا خدا ہوں ۔ ایسا ہی اخیر زمانہ میں بھی اس نے فرمایا ۔ انا المجود یا د رکھیں کہ وہ ہادی ہے ۔اگر چھوڑ دے تو سب دہر یہ بن جائیں ۔ پس وہ اپنی ہستی کا ثبوت دیتا رہتا ہے اور یہ زمانہ تو بالخصوص اس بات کا محتاج ہے ۔ جس چیز کی حکومت ہو اس کا اثر ظاہر ہو جاتا ہے آج کل اگر صالح آدمی جس نے حق پا لیا ہے ضال پر اثر سے متا ثر ہو جاتے ہیں ۔ مومن اگر چہ بچا رہتا ہے مگر دوسروں پر اثر نہیں ڈال سکتا ۔ ضلالت کے رعب کا یہ حال ہے کہ بڑے بڑے تعلیم یافتہ ہیں اُن سے مذہب کی نسبت کوئی کچھ نہیں کہتا کہ شاید ناراض ہو جائیں یا مجھ سے ہنسی ٹھٹھا ہو ۔ حق کا اعلان مگر صحابہ کرام کی طرف دیکھنا چاہئیے کہ اسلام کی ضعف کی حالت میں آنحضرت ﷺ نے تمام بادشاہوں کو خط لکھ دیا ۔ا س وقت ایسا مہذبانہ زمانہ بھی نہیں تھا نہ یہ امن کی صورت ۔صحابہ ؓ نے ان خطوط کو پہنچایا اور بر سر دربار اپنے عقائد کو کھول کر بیان کیا ۔ایک عیسائی بادشاہ کو جب اسلام کا پیغام اور اس نے صحابہ ؓ سے کلام الہیٰ سنا تو وہ بول اُٹھا یہ اس کا کلام معلوم ہو تا ہے جس نے تورات نازل کی اور کہا اگر اس نبی کے پاس میں جا سکتا تو اس کے قدم چومتا ۔پا دریوں کو بُلا کر کہا ۔دیکھو اسلام کیسا عمدہ مذہب ہے کہ تم اسے پسند کرتے ہو ؟ جب ان سے مخالفت محسوس کی تو کہد یا میں تو تمہیں آزماتا تھا ۔ یہ کمزوری دنیا کی حرص کا نتیجہ تھی جس میں دنیا پر ستی نہیں و ہ حق کہنے اور حق کا اعلان کرنے سے نہیں ڈرتے اور ان کی خد ا مدد کرتا ہے ۔ قول موجہ کی ضرورت ہماری جماعت کے لئے نہایت ضروری ہے کہ ہر طبقہ کے انسانوں کو مناسب حال دعوت کرنے کا طریق سیکھے ۔بعض کو باتوں کا ایسا ڈھنگ ہوتا ہے کہ جوکچھ کہنا ہوتا ہے وہ کہہ لیتے ہیں اور اس سے نا راضی بھی پیدا نہیں ہوتی ۔ بعض ظاہر میں خبیث معلوم ہوتے ہیں جن سے نا اُمید ی ہوتی ہے مگر وہ قبول کر لتیے ہیں اور بعض غریب طبع دکھائی دیتے ہیں اور ان پر بہت کچھ امید پیدا ہو تی ہے مگر وہ قبول نہیں کرتے اس لیے قول موجہ کی ضرورت ہے جس سے آخر کار فتح