قوموں کی طرف توجہ ہوتی ہے ۔آنحضرت ﷺ کا نمونہ موجود ہے ۔ سب سے پہلے قریش کی اصلاح کی پھر یہود ونصاری کی طرف متوجہ ہوئے۔
مسلمانوں کے دو گروہ
مسلمانوں میں دو قسم کے لوگ ہیں ۔ایک جو پورا کلمہ پڑھنا نہیں جانتے جن میں سے وہ بھی ہیں جن کی نسبت آریہ مشہور کرتے رہتے ہیں کہ ہم نے اتنے مسلمانوں کو آریہ کر لیا ۔پہاڑ میں ایسے آدمی ہم نے بہت دیکھے ہیں کہ جن کو اسلام کی کچھ خبر ہی نہیں دوسرے وہ جو مہذب تعلیم یافتہ کہلاتے ہیں ۔یہ اسلام کو کراہت کی نظرسے دیکھتے ہیں ۔نما ز کے ارکان پر ہنسی ٹھٹھا کرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ نماز روزہ وحشیانہ زمانے کی باتیں ہیں ۔یہ احکام آجکل کے زمانہ میں مناسب نہیں ۔ پس ان دونوں گروہوں کی اصلاح سب سے اول ضروری ہے مگر ہن کیا اصلاح کر سکتے ہیں ۔جب تک آسمان ہی سے نہ ہو جس کے کان سننے کے ہوں اسے ہم بخوشی سناتے ہیں ۔بعض ایسے ہیں کہ بیان کرو تو وہ سنیں گے ہی نہیں یا بات کو دوسری طرف لے جائیں گے ۔بے دینی کی ایک زہر ناک ہوا چل رہی ہے جس نے کسی کو ہلاک کر دیا کسی کو آندھا کسی کو مست وہ جو خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے والے ہیں ۔ بہت تھوڑے رہ گئے ہیں ۔ خد ا تعالیٰ کی ہستی ثابت کرنے کی بْری ضرورت ہے ۔ فرقے تو بہت ہو گئے تھے مگر دہریہ سب سے زیادہ ہیں عظمت الہیٰ مطلق نہیں رہی ۔عظمت کا ہو ۔جب خدا کے وجو د پر ہی یقین نہیں رہا ۔
آخری علاج
ہر نبی کے زمانہ میں کچھ خونیریزی ہوئی ۔وکَان النَبیَّ آن یَّکعونَ لہٰ آسریٰ حَتیَّ یُثخنَ فِی الآرض َ ( الانفال : ۸)
انسانوں کے ہاتھوں پر جو امور مقدر تھے وہ تو ختم ہو چکے ۔ اب خدا تعالٰی نے ایسے کل امور کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ۔یہ طاعون زلزلے طرح طرح کے امراض۔مضائب سب خدا کی تلواریں ہیں ۔تعجب ہے کہ حا دثے پر حا دثے آتے ہیں مصیبت پر مصیبت آتی ہے ۔ مگر ہماری جماعت کے سوا دوسرا کوئی ان سے متا ثر نہیں ہوتا ۔ حالانکہ یہ سب بلائیں اس لئے ہیں کہ لوگوں کی غفلت دور ہو ۔ وہ تضرع اخیتا کریں اور سمجھیں کہ خدا ہے دیکھو ہر پہلو سے حا دثے واقع ہور ہے ہیں اور ابھی کیا معلوم کہ آگے آگے کیا ہونے والا ہے ۔ ہمار ا مذہب تو یہ ہے کہ اب جو کچھ کرے گا خدا ہی کرے گا ۔جو جراحی آخری علاج ہے اور علاج تو سب ہو چکے ۔پس یہ آخری علاج ہے اب یا ہمارے مرے گا یا صحیاب ہو گا ۔کئی لاکھ انسان مر چکا ہے مگر عملی حالت دکھاتی ہے کہ ابھی کچھ بھی نہیں ہوا۔ نیکی کی طرف سے بہت دور ہیں اور بدی کی جانب قریب ہیں ۔ استغفار کرنا چاہئیے ۔
آگے قاعدہ تھا کہ مسلمان باد شاہ عام طور پر وباؤں کے وقت انابت الیٰ اللہ اور دعا وصدقہ وخیرات کی طر ف توجہ دلاتے رہتے ہیں ۔ اب یہ بھی نہیں بلکہ خدا کا نام لینا بھی خلاف تہذیب سمجھا جاتا ہے ۔