ظاہری فائدہ کی خاطر احکام الٰہی کی بے قدری کرتاہے ۔
آج کل جو مذاہب لوگوں میں رائج ہیں وہ سب قومی مذاہب ہیں۔ یعنی ایک قومیت کی پچ کی جاتی ہے ۔ ورنہ سچا مذہب وہ ہے جو خدا تعالیٰ کے خوف سے شروع ہوتاہے اور خوف اور محبت کی جڑھ معرفت ہے پس مذہب وہ اختیار کرنا چاہیئے جس سے خدا تعالیٰ کی معرفت اور گیان بڑھ جائے اور خدا تعالیٰ کی تعظیم دلوں میں بیٹھ جائے۔ جس مذہب میں صرف پُرانے قصے ہوں وہ ایک مردہ مذہب ہے ۔ دیکھو خدا وہی ہے جو پہلے تھا اس کی عبادت سے جو پھل پہلے لوگ پاسکتے تھے وہی پھل اب بھی پاسکتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے اپنے اخلاق بدل نہیں ڈالے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ صرف ایک خشک لکڑی کی طرح ہیں جس کے ساتھ کوئی پھل نہیں ۔ وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے خدا تعالیٰ کو پہچانا ہی نہیں۔ اگر پہچانتے تو ان پر ضرور برکات نازل ہوتے مگر اس راہ میں بہت مشکلات ہیں اور یہ بڑی قوت والوں کاکام ہے اور خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے جس کو چاہے قوت عطا فرما دے اگر انسان تلاش میں لگا رہے تو ہو سکتا ہے کہ کسی وقت اس کو قوت عطا ہو جائے۔ استقامت شرط ہے ہمت کے ساتھ خدا تعالیٰ کو تلاش کرو تو اسے پالو گے۔۱؎
بلاتاریخ۲؎
گناہ اوران کی بخشش:۔
ایک شخص نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ دُنیا میں لوگ بہت گنہگار ہوں گے مگر میرے جیسا گنہگار تو کوئی نہ ہوگا۔ میں نے بڑے بڑے سخت گناہ کئے ہیں۔ میری بخشش کس طرح ہوگی؟
حضرت نے فرمایا:
دیکھو۔ خدا تعالیٰ جیسا غفور اور رحیم کوئی نہیں۔ اللہ تعالیٰ پر یقین کامل رکھو کہ وہ تمام گناہوں کو بخش سکتاہے اور بخش دیتاہے ۔ خدا تعالیٰ فرماتاہے کہ اگر دُنیا بھر میں کوئی گنہگار نہ رہے تو میں ایک اور اُمت پیدا کر وں گا جو گناہ کرے اور میں اس کے گناہ بخش دوں۔ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام غفور ہے اور ایک رحیم ۔ یادرکھو کہ گناہ ایک زہر ہے اور ہلاکت ہے مگر توبہ اور استغفار ایک تریاق ہے۔ قرآن شریف میں آیا ہے ۔ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَھِّرِیْنَ ( البقرۃ :۲۲۳) اللہ تعالیٰ اُن لوگوں سے پیار کرتا ہے جو توبہ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاک ہو جاویں۔ خدا تعالیٰ نے ہر ایک شے میں ایک حکمت رکھی ہے۔ اگر