دوائیں اندازہ کرنے پر مطمن نہیں ہونا چاہئیے ۔بلکہ ضرورتوں کو لینا چاہئیے ۔ مسلمان کس طرح ترقی کر سکتے ہیں ؟ آریہ اگر یہ گند نہ بولتے تو ہمارے لیے تحریک نہ ہوتی ۔ حقائق ومعارف کے لئے اُن کے اعتراضات بہانہ ہو گئے ۔ غیر قوموں میں اپنے قومی مذہبی کاموں میں چند دینے کا جوش ہے وہ مسلمانوں میں نہیں ۔شاید اس لئے کہ ’’ گریماں رابدست اندردرم نیست مگر مسلمانوں پر پہلے بھی جب اقبال کا زمانہ آیا تو دینی رنگ میں ترقی کرنے سے اب بھی اگر وہ پہلا زمانہ دیکھنا چاہتے ہیں تو دین کی طرف توجہ کریں ۔ ان لوگوں کی تقلید سچے مسلمانوں کے لئے کوئی نتیجہ نہیں دے سکتی مسلمانوں میں جو آجکل مصلح بنے ہیں وہ بجائے اس کے کہ اپنی حالت درست کریں نماز روزہ کے احکام میں ترمیم کرنا چاہتے ہے ۔ اس میں قوم کی ترقی سمجھتے ہیں ۔ خدا تعالیٰ تو دین کے ذریعہ ترقی چاہتا ہے اور یہ لوگ بے دین ہونے سے ترقی طلب کرتے ہیں ۔جس میں کبھی کامیابی نہیں ہو گی ۔ اسلام ہی خدا کو واحد لاشریک مانتا ہے ۔ اگر یہ مسلمان میں ا س توحید سے الگ ہو گئے تو ان کے حق میں اچھا نہیں ہو گا ۔ دوسری قوموں کی تلقلید اُن کے لئے مبارک نہیں ہو سکتی ۔دوسروں کو اگر بے دینی سے کامیابی ہوتی بھی ہوتی ہے تو یہ بطور ابتلاء ہے ۔ ہر شخص سے خدا تعالیٰ کا معاملہ علٰیحدہ ہے ۔ عیسائی قومیں نا پسند کریں ۔ شراب خوری قما بازی کریں تو یہ اُن کے لئے مفید ہو سکتے ہیں لیکن اگر مسلمان ایسے کام کریں تو ان پر ضرور عذاب نا زل ہوگا ۔دیکھو ظاہر ی سلطنت کا بھی یہی قاعدہ ہے کہ اگر ملازم کسی شورش کے جلسہ میں شامل ہو تو اس کو عبرت ناک سزا دی جاتی ہے ۔پس اسی طرح جو کلمہ پڑھنے والے ہیں یہ خدا تعالیٰ کے خا ص بندے ہیں ۔اگر یہ لوگ گستاخی کریں اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبراداری نہ کریں تو ضرور گرفتار ہو ں گے ۔یہ الہام جو ہم کو ہوا ۔ ’’ وہ وعدہ ٹلے گا نہیں جب تک خون کی ندیاں چاروں طرف سے بہہ نہ جائیں ‘‘ تو اس میں اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ اس کی توحید دنیا سے گم ہو ۔جب مسلمان ہی کفر شرک کو پسند کرنے لگیں تو پھر دوسری قوموں کا کیا گلہ ہو سکتا ہے ۔ پہلے گھر صاف ہو تو پھر دوسرے لوگوں کی اصلاح ہو سکتی ہے تمام قوموں میں دہریت بڑھتی جاتی ہے ۔ خدا تعالیٰ اپنی ہستی ثابت کرنا چاہتا ہے اور اول خویشاں بعد درویشاں کے مطابق ہمارا فرض ہے کہ پہلے اپنی قوم کی اصلاح کریں ۔ جب مسلمانوں ہی میں ہزاروں گندہوں تو دوسروں کو کیا کہا جاسکتا ہے ۔ جہاد جہاد پکارتے ہیں ۔مگر میں کہتا ہوں کہ اگر ہمیں جہاد کرنے کا حکم ہوتا تو سب سے پہلے انہیں سے کیا جانا چاہئیے تھا ۔ یہ عادت اللہ ہے کہ جس قوم کے اندر کتاب ہو پہلے اس درست کیا جا تا ہے ۔ پھر دوسری