اس کے لئے کوئی دسبیل بنا دے گا ۔ایک نیکی اور نیک خیال کا اثر دوسرے پر بھی پڑتا ہے ۔ کوئی اپنی جگہ پر استقلال رکھے تو سود خور بھی مفت دینے پر راضی ہو جاتے ہیں ۔۱؎ بلاتا ریخ بنک کا سود ایک صاحب کا ایک خط حضرت کی خدمت میں پہنچا کہ جب بینکوں کے سوُد کے متعلق حضور نے اجازت دی ہے کہ موجودہ زمانہ اور اسلام کے حالات کو مد نظر رکھ کر اضطرار ات بھی پیدا ہو کر سود لین دین جاری ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ فرمایا :۔ اس طرح سے لوگ حرامخوری کا دروازہ کھولنا چاہتے ہیں کہ جو جی چاہے کرتے پھریں ۔ہم نے یہ نہیں کہا کہ بینک کا سود ب سبب اضطرار کے کسی انسان کو لینا اور کھانا جائز ہے ۔بلکہ اشاعت اسلام میں اور دینی ضروریات میں اس کا خرچ جائز ہو نا بتلا گیا ہے ۔ وہ بھی اس وقت تک کہ امداد دین کے واسطے روپیہ مل نہیں سکتا اور دین غریب ہو رہا ہے کیونکہ کوئی شئے خداتعالیٰ کے واسطے تو حرام نہیں ۔ باقی رہی اپنی ذاتی اور ملکی اور قومی اور تجارتی ضروریات ۔سو اُن کے واسطے اور ایسی باتو ں کے واسطے سود بالکل حرام ہے وہ جو ار جو ہم نے بتلایا ہے وہ اس قسم کا ہے کہ مثلاً کسی جاندار کو آگ میں جلانا شرعاً منع ہے ۔لیکن ایک مسلمان کے واسطے جائز ہے کہ اس زمانہ میں اگر کہیں جنگ پیش آوے تو توپ بندوق کا استعمال کرے کیونکہ دشمن بھی اس کا استعمال کر رہا ہے ۔ تراویح کی رکعات تراویح کے متعلق عرض ہوا کہ جب یہ تہجد ہے تو بیس رکعت پڑھنے کی نسبت کیا ارشاد ہے کیونکہ تہجد تو مع وگیارہ یا تیرہ رکعت ہے ۔ فرمایا :۔ آنحضرت ﷺ کی سنت دائمی تو وہی آٹھ رکعات ہے اور آپ تہجد کے وقت ہی پڑھا کرتے تھے اور یہی افضل ہے مگر پہلی رات بھی پڑھی گئیں ۔ مگر آنحضرت ﷺ کی سنت وہی تھی جو پہلے بیان ہوئی ۔۲؎