ہیں جو ان کی تباہی کا موجب ہے ۔ دیکھو سود کا کس قدر سنگین گناہ ہے ۔ کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں ۔سور کا کھانا تو بحالت اضطرار جائز رکھا ہے ۔ چنانچہ فرماتا ہے ۔ فَمَنِ اضطُرَّ غیرَ بَا غِِ وَّ لَا عادِِِ فَلَآ اِثم عَلَیہ انَّ اللّٰہَ غَفُورٌ رَّحیمٌ ( البقرۃ : ۱۷۴) یعنی جو شخص باغی نہ ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا ۔تو اس پر کوئی گناہ نہیں اللہ غفور رحیم ہے مگر سود کے لئے نہیں فرمایا کہ بحالت اضطرار جائز ہے بلکہ اس کے لئے تو ارشاد ہے ۔یَاّ یُّھَا الَّذینَ اٰمنو اتَّقوا للّٰہَ وَذَرُو مَا بقَی منَ الرِّبوٰ ان کُنتُم مُّومنینَ ۔فَان لَّم تَفعَلوُ افَا ذَ نُوا بِحَرابِِ منَ اللّٰہ وَرَسُولہِ ( البقرۃ : ۲۷۹۔ ۲۸۰) اگر سود کے لین دین سے باز نہ آؤ گے تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا اعلان ہے ۔ہمارا تو یہ مذہب ہے کہ جو خدا تعالیٰ پر توکل کرتا ہے اسے حاجت ہی نہیں پڑتی ۔مسلمان اگر اس ابتلاء میں ہیں تویہ ان کی اپنی ہی بد عملیوں کا نتیجہ ہے ۔ ہندو اگر یہ گناہ کرتے ہیں تو مالدار ہو جاتے ہیں ۔مسلمان یہ گناہ کرتے ہیں تو تباہ ہو جاتے ہیں ۔ خَرَ الدُّنیآ وَالاخرَۃَ کے مصداق ہیں پس کیا ضروی نہیں کہ مسلمان اس سے باز آ جائیں ؟
انسا ن کو چاہئیے کہ اپنے معاش کے طریق میں پہلے ہی کفایت شعاری مد نظر رکھے تا کہ سودی قرضہ اُٹھانے کی نوبت نہ آئے جس سے سود اصل سے بڑھ جاتا ہے ۔ابھی کل ایک شخص کا خط آیا تھا کہ ہزار روپیہ دے چکا ہوں ۔ ابھی پانچ چھ سو باقی ہے۔ پھر مصیبت یہ ہے کہ عدالیتں بھی ڈگری دے دیتی ہیں مگر اس میں عدالتوں کا کیا گناہ جب اس کا اقرار موجود ہے تو گویا اس کے یہ معنے ہیں کہ سود دینے پر راضی ہے ۔ پس وہاں سے ڈگری جاری ہو جاتی ہے ۔اس سے یہ بہتر تھا کہ مسلمان اتفاق کرتے اور کوئی فنڈ جمع کر کے تجارتی طور سے اُسے فروغ دیتے تا کہ کسی بھائی کو سود پر قرضہ لینے کی حا جت نہ ہوتی بلکہ اسی مجلس سے ہر صاحب ضرورت اپنی حا جت روائی کر لیتا اور میعاد مقررہ پر واپس دے دتیا ۔
حکیم فضل دین صاحب نے سنایا کہ علامہ نور الدین بھیرہ میں حدیث پڑھا رہے تھے ۔ باب الربٰو تھا ۔ ایک سود خور سا ہو کار آکر پاس بیٹھ گیا ۔جب سود کی ممانعت سنی تو کہا اچھا مولوی صاحب آپ کو نکاح کی ضرورت ہو تو پھر کیا کریں ؟ انہوں نے کہا بس ایجاب قبول کر لیا جائے ۔ پوچھا اگر رات کو گھر میں کھانا نہ ہو تو پھر کیا کرو؟ کہا لکڑیوں کا گٹھا باہر سے لاؤں روز بیج کر کھاؤں ۔اس پر کچھ ایسا اثر ہو ا کہ کہ کہنے لگا آپ کو دس ہزار تک اگر ضرورت ہو تو مجھ سے بلا سود لے لیں ۔
فرمایا :۔
دیکھو جو حرام پر جلدی نہیں دوڑتا بلکہ اس سے بچتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے لیے حلال کا ذریعہ نکال دیتا ہے ۔
مَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا ( الطلاق : ۳ ) جو سود دینے سے اور ایسے حرام کاموں سے بچے اللہ تعالیٰ