بتائیں کہ وہ سچا مسیح کہاں ہے اور کب آسمان سے اُترا ۲؎ بلا تا ریخ قرض کا علاج ایک شخص نے عرض کیا مجھ پر بڑا قرض ہے ۔ دعا کیجئے فرمایا :۔ توبہ استغفار کرتے رہو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے ۔ جو استغفار کرتا ہے اُسے رزق میں کشائش دیتا ہے ۔ سودی لین دین اتنا قرض کس طرح چڑھ گیا ۔ ؟ پھر پوچھا کہ : اس نے کہا ۔بہت سا حصہ سو د ہی ہے ۔ فرمایا :۔ بس پھر تو شامت اعمال ہے ۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے حکم تو توڑنا ہے اسے سزا ملتی ہے ۔خدا تعالیٰ نے پہلے سے فرما دیا کہ اگر سود کے لین دین سے باز نہ آوگے تو لڑائی کا اعلان ہے ۔ خدا تعالیٰ کی لڑائی یہی ہے کہ ایسے لوگوں پر عذاب بھیجتا ہے ۔پس یہ مفلسی بطور عذاب اور اپنے کنے گا پھل ہے ۔ سودی لین دین سے بچنے کا طریق اس شخص نے عرض کیا ۔ کیا کریں مجبوری سے سودی قرضہ لیا جا تا ہے ۔ فرمایا :۔ جو خدا تعالیٰ پر توکل کرتا ہے خدا تعالیٰ اس کا کوئی سبب پردہ غیب سے بنا دیتا ہے ۔افسوس کہ لوگ اس زکوۃ نہیں سمجھتے کہ متقی کے لئے خدا تعالیٰ کبھی ایسا موقعہ نہیں بناتا کہ وہ سودی قرضہ لینے پر مجبور ہو ۔ یاد رکھو جیسے اور گناہ ہیں مثلاً زنا چوری ایسے ہی یہ سود دینا اور لینا ۔کس قدر نقصان وہ یہ بات ہے کہ مال بھی گیا۔حیثیت بھی گئی اور ایمان بھی گیا ۔ معمولی زندگی میں ایسا کوئی امر ہی نہیں کہ جس پر اتنا خرچ ہو جو انسان سود ی قرضہ لینے پر مجبور ہو ۔ مثلاً نکاح ہے اس میں کوئی خرچ نہیں ۔ طرفین نے قبول کیا اور نکاح ہو گیا ۔ بعدازاں ولیمہ سنت ہے ۔ سو اگر اس کی استطاعت بھی نہیں تو یہ بھی معاف ہے ۔ انسان اگر کفایت شعاری سے کام لے تو اس کا کوئی بھی نقصان نہیں ہوتا ۔بڑے افسوس کی بات ہے کہ لوگ اپنی نفسانی خواہشوں اور عارضی خوشیوں کے لئے خدا تعالیٰ کونا راض کر لیتے