سے ایمان کا نشان نہیں کہہ سکتے کیونکہ دہریہ بھی اس دن مرتے ہیں ۔ان کا ہوش قائم اور چہرہ سفید رہتا ہے ۔اصل بات یہ ہے کہ بعض امراض ہی ایسے ہیں مثلاً دق وسل کے ان کے مریضوں کا اخیر تک ہوش قائم رہتا ہے بلکہ طاعون کی بعض قسمیں بھی ایسی ہی ہیں ۔ہم نے بعض دفعہ دیکھا کہ مریضوں کو کلمہ پڑھایا گیا اور یسٓ بھی سنائی ۔بعدا زاں وہ بچ گیا اور پھر وہی برے کام شروع کر دئیے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ صدق دل سے ایمان نہیں لایا ۔ اگر سچی توبہ کرتا تو کبھی ایسا کام نہ کرتا
اصل میں اس وقت کا کلمہ پڑھنا ایمانا لانا نہیں ۔یہ تو خوف کا ایمان ہے جو مقبول نہیں ۔۲؎
۱۳ جنوری ۱۹۰۸ء
بوقت ظہر
علماء کے نزدیک
فرمایا :۔
گویا کے نزدیک اپنی ہی قوم میں دجال اپنی ہی میں کافر اپنی ہی میں سب بدیاں ہیں ۔بدیاں ہیں ۔ باہر نظر نہیں جاتی تا دیکھیں کہ دجالیت کس فرقہ میں ہے اور کفار کون ہیں ۔۳؎
۱۸ جنوری ۱۹۰۸ء
ہماری مقابل پر خواب اور الہام
جو الہام یا خواب ہمارے مقابل پیش کئے جائیں ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ پیش از وقت دعویٰ کے سا تھ شائع کئے گئے ہوں اور پھر پورے ہوں ۔ یوں تو ہر ایک مفتری کہہ سکتا ہے کہ میں نے ایسا خواب جو پورا ہو گیا ۔۱؎۱۹ جنوری ۱۹۰۸ء
سچا مسیح کہان ہے ؟
اگر ہم ہی المسیح الدجال ہیں اور یہ بات کسی صحیح واقعہ پر مبنی ہے تو پھر احادیث میں تو اس کے ساتھ ہی مسیح موعود کا ذکر بھی ہے۔پس