طریق اسلام
یاد رکھو ۔ ہمارا طریق بعینہ وہی سے جو آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کا تھا ۔ آج کل فقراء نے کئی بدعتیں نکال لی ہیں ۔ یہ چلے اور ورد وظائف جو انہوں نے رائج کر لیے ہیں ہمیں نا پسند ہیں ۔اصل طریق اسلام قرآن مجید کو تبد بر سے پڑھنا اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرنا اور نماز توجہ کے ساتھ پڑھنا اور دعائیں توجہ اور انابت الی اللہ سے کرتے رہنا ۔ بس نماز ہی ایسی چیز ہے جو معراج کے مراتب تک پہنچا دیتی ہے ۔یہ ہے تو سب کچھ ہے ۔ والسلام ۱؎
۹جنوری ۱۹۰۸ء
اپنی کتابوں میں تکرار مضامین کی وجہ
فرمایا :۔
ہم جو کتاب کو لمبا کر دتیے ہیں اور ایک ہی بات کو مختلف پیرایوں میں بیان کرتے ہیں اس سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ مختلف ہو تا ہے کہ مختلف طبائع مختلف مذاق کے نا ظرین کسی نہ کسی طریقے سے سمجھیں اور شاید کسی کو کوئی نکتہ دل لگ جائے ارو اس سے ہدایت پا لے اور یوں بھی اکثر دل جو طرح طرح کی غفلتوں سے بھرے ہوئے ہیں اُن کو بیدار کرنے کے لیے ایک بات کا بار بار بیان کرنا ضروری ہوتا ہے ۔
آریوں کا رویہ تقویٰ سے بعید ہے
فرمایا :۔
عیسائیو ں کی دشمنی نو اسلام سے پرانی ہو گئی ہے اور ان کے پادری اب گلے پڑا ڈھول بجا رہے ہیں ۔مگر یہ آریہ ابھی تازہ تازہ دشمنی رکھتے ہیں اس لیے زیادہ پر جوش ہیں ۔مگر افسوس کہ ان میں طلب حق نہیں ۔اُن کے اعتراضوں کے معلوم ہو تا ہے کہ ان کے معترضوں نے صحیح طریق سے اسلام کا مطالعہ نہیں کیا ۔چنانچہ یہ لکھتا ہے کہ مسلمان کہتے ہیں قرآن مجید اآسمان سے اُترا ہے اس کے غلط معنے اس نے کر لیے مگر یہ طریق تقویٰ سے بہت بعید ہے۱؎
۱۲ جنوری ۱۹۰۸ء
عوام میں مشہور ایمان کی علاما ت
جمعہ کے دن مرنا مرتے وقت ہوش کا قائم رہنا یا چہرہ کا رنگ اچھا ہونا ۔ان علامات کو ہم قاعدہ کلیہ کے طور