لے کس قدر تکلیفیں برداشت کرتے ہیں ۔ اس کا عشر عشیر بھی دین کی تحقیق کے لئے محنت نہیں اُٹھاتے بلکہ طرح طرح کے بیہودہ عذر کرتے ہیں ۔ حالانکہ جیسے اور معمولی کام دنیا کے کر رہے ایسے ہی اس الغَّبَالعظیم کی تحقیق بھی یہ کر سکتے ہیں جس پر اُخروی زندگی کی بہودی کا دار مدار ہے ۔
مامور من اللہ کا انکا ر سب سے بڑا گناہ ہے
ایک شخص نے جو اکثر صوفیوں کی صحبت میں رہا ہے عرض کیا کہ دعا کریں کہ مجھے خدا کا شوق ومعرفت حا صل ہو ۔فرمایا :
پہلے ایما ن کو درست کرو ۔ یہ ریا ضیتں جو طریقہ نبوی سے باہر ہیں یہ تو کسی کام نہ آئیں گی اور نہ منزل مقصود کو پہنچائیں گی ۔ دیکھو بعض جوگی اس قدر ریاضتیں کریت ہیں کہ اپنے بازو سکھا دیتے ہیں ۔ مگر اللہ کے نزدیک مقبول نہیں کیونکہ ایک تو ارشاد نبوی کے خلاف ۔دوم ایمان ہی نہیں اور اللہ تعالی فرماتا ہے ۔ انَّمَا یَتَقَبُّلُ اللّٰہُ مِنَ المُتَّقینَ ( المائدۃ : ۲۸) یعنی اللہ ان کی عبادت قبول کرتا ہے جو خدا سے ڈرتے ہیں اور ڈرنے کا نتیجہ یہ ہے ہ اس کے منشاء کے مطابق کام کرتے ہیں اور سب سے پہلا کام تو یہ ہے کہ اس کے مامور کو مانیں ۔ دیکھو یہودی خدا کو مانتے ہیں اور مشرک بھی نہیں قبلہ بھی ان کا وہ ہے جو پہلے مسلمانوں کا رہ چکا ہے مگر پھر بھی خدا کے حضور مقبول نہیں ۔صرف اس لئے کہ خدا کے رسول کو نہ مانا ۔رسولوں کا نہ ماننے سے وہی جنہیں عالمین پر فضیلت دی گئی تھی ملعون ہوئے ۔ کیونکہ گناہ تو اور بھی ہیں مگر سب سے بڑا گناہ مامور من اللہ کا انکار ہے ۔
غور کر کے دیکھو تو معلوم ہو جائے گا کہ سب سے بڑا گناہ یہ کیوں ہے ۔ جس قدر گناہ ہیں و ہ سب خدا تعالیٰ کے احکام کی نافرمانبردای سے پیدا ہو تے ہیں اور خدا کے احکام ماموروں کی معرفت دنیا پر ظاہر ہو تے ہیں ۔پس جب ان احکام کے لانے والے کو نہ مانو گویا اللہ کے کسی حکم کو بھی نہ مانا کیونکہ جس نے اللہ کی مرضی ظاہر کر تی تھی جب اس کا انکار کیا تو اس کی رضا مندی کی راہوں کا کیونکہ علم ہو سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہودی باوجود خدا کو ماننے ۔نماز روزہ کرنے کے بندر سو ر کہلائے ۔
وصولی الیٰ اللہ کا ذریعہ
اس شخص نے عرض کیا حضور میں ایمان لایا ۔
فرمایا :۔
پھر توبہ استغفار وصول الیٰ اللہ کا ذریعہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذین جَا ھَدُو افِینَا لَنَھدِ ینَّھُم سُبُلَنَا ( العنکبوت : ۷۰) پوری کوشش سے اس کی راہ میں لگے رہو منزل مقصود تک پہنچ جاؤ گے ۔ اللہ تعالیٰ کو کسی سے بخل نہیں آخر انہیں مسلمانوں میں سے وہ تھے جو قطب اور ابدال اور غوث ہوئے ۔ اب بھی اس کی رحمت کا دروازہ بند نہیں ۔قلب سلیم پیدا کرو ۔ نماز سنوار کر پڑھو ۔دعائیں کرتے رہو ۔ ہماری تعلیم پر چلو ۔ہم بھی دعا کریں گے ۔