۶جنوری ۱۹۰۸؁ء موجود حالات میں مصلح کی ضرور ت ایک دوست نے اپنا خواب بیان کیا جس میں یہ آیت بھی تھی ومن یّتَّقِ اللّٰہَ یَجعَل لَّہ مخرَ جاً ( الطلاق: ۳) فرمایا :۔ ایک علمگیر عذاب کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے جس سے نجات کا ذریعہ صرف تقویٰ ہی ہے ۔ دیکھو یہ قحط جو بڑھتا جا تا ہے یہ بھی شامت اعمال ہی ہے ۔ جواس سے بچنا چاہتے ہیں وہ اللہ کے حضور توبہ کریں مگر توبہ کے آثار نظر نہیں آتے ۔یہ لوگ بار بار تکذیب کرتے ہیں ۔نشان پر نشان دیکھتے ہیں اور پھر نہیں مانتے کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ یہ کیوں تکذیب وتکفیر پر کمر بستہ ہیں ۔ نہ قرآن مجید ان کے ساتھ نہ احادیث ان کے ساتھ موجود ہ حالات پکار پکار کر ایک مصلح کی ضرورت جتا رہی ہیں ۔ غرض عقلی نقلی دونوں طریق سے یہی جھوٹے ثابت ہو رہے ہیں مگر پھر بھی باز نہیں آتے ۔ بار بار جہاد کو پیش کرتے ہیں مگر یہ نہیں سمجھتے کہ جب کوئی گورنمنٹ مذہب کے لئے نہیں لڑتی تو وہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا وہ کس لئے تلوار سے جہاد کرتا ۔اب تو زمانہ دلائل سے جہاد کرنے کا ہے جو ہو رہا ہے ۔ یہ لوگ عجیب قسم کی تا ریکی میں ہیں کہ انیں کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔جو اُن کے رہبر بنے ہوئے ہیں وہ عجیب قسم کے مکروں سے کام لے رہے ہیں ۔دنیا ہی دنیا ان کا مقصود ہے ۔ اسلام میں ایک بیج بویا گیا تھا بجائے اس کے کہ اس کی آبیاری کرتے اس کو اُجاڑنے کے در پے ہیں ۔۲؎ ۸جنوری ۱۹۰۸؁ء آخر ی زمانہ کے اکثر نشانات پورے ہو چکے ہیں فرمایا :۔ بڑے تعجب کی بات ہے کہ آخری زمانہ کے متعلق جس قدر نشانات تھے ان میں سے بہت نشانات پورے ہو چکے مگر پھر بھی لوگ توجہ نہیں کرتے ۔ اللہ تعالیٰ غنی ہے اور اس کو ان لوگوں کی پروانہیں جو اس سے لا پراوہی اخیتار کرتے ہیں یہ لوگ دنیا کے معمولی کا موں کے