دے گی اور پھر اس دن تو ہر چیز معطل ہو جائے گی ۔ اونٹنیوں کی خصوصیت کیا ہے ؟ مطلب یہ تھا کہ اب تجارت کا دارمدار اُونٹنیوں پر ہے پھر ریل پر ہو گا ۔اور چونکہ میں یہی زمانہ مسیح موعود کا لکھا ہے اس لئے اب عرب والوں کو مسیح موعود کی تلاش کرنی چاہیے ۔دیکھو اب تو اُن کے گھر میں ریل بن رہی ہے اور خود ہمارے دشمن اس میں سر توڑ کوشش کر رہے ہیں ۔یہ بھی ایک نشان ہے کہ ہمارے دشمنوں کو خدا نے ہمارے کام لگا دیا ہے ۔ چند تو دے رہے ہیں وہ اور صداقت ہماری ثابت ہو گی ۔ نشانا ت کی تکذیب افسو س کہ یہ لوگ ہمارے بغض کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کی تکذیب بھی کر دیتے ہیں مگر کس کس نشان کی یہ تکذیب کریں ۔ خدا تعالیٰ نے ہمارے لیے طاعون بھیجا ۔زلزلہ بھی آیا یا جو ج ماجو ج دجال کا خروج ہو چکا کسوف خسوف ماہ رمضان میںغیر معمولی طور سے ہو چکا کہتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے ۔ نادان یہ نہیں سمجھتے کہ جب واقع ہو گئی تو اب راویوں پر جرح فضول ہے ۔ جب کوئی امر واقع ہو جائے تو بڑا ہی بیوقوف ہے وہ شخص جو پھر بھی کہے فلاں راوی ایسا ہے اور فلاں ایسا ۔ ایک بزرگ نے لکھا ہے کہ بعض حدیثیں صحیح عجب نہیں اگر موضوع ثابت ہوں اور کئی حدیثیں جنہیں موضوع کہتے ہیں صحیح واقعات نے صحیح ثابت کیں ۔ ان لوگوں میں ذرا بھی ایمان ہو تو مان لیں ۔ دیکھو حدیث وقرآن وحالات موجو دہ کا آپس میں کیا تطابق ہوا ہے یہ ہمیں مضری کہتے ہے ۔اچھا الہام بنانے پر تو ہمارا اخیتار ہے کیا آسمان پر بھی ہمارا خیتار تھا کہ ہم ماہ رمضان میں خلافت معمولی کسوف وخسوف کراتے ؟ کیا طاعون پر ہمارا اخیتار تھا کہ اُسے لے آتے ؟ کیا ریل ہماری کوشش سے بن رہی ہے ؟ اصل بات وہی ہے جو خدا نے عرَضَنَا جَھَنّمَ یَومئذِِ للکَافِرِینَ عَرضًا ( الکھف : ۱۰۱) سے آگے فرمایا الَّذین کَانت آعینُھُم فی عطَآئِِ عن ذکری وَکَانوُ الا یَستطیعُون َسمعًا ( الکھف :۱۰۲) ذکر سے مراد یہ ہے کہ جو میں نے ان کو اپنے مامور کی معرفت یا د کیا ۔خدا تعالیٰ کا یاد کرنا یہی ہوتا ہے کہ اپنی طرف سے ایک مصلح کو بھیج دیا ۔ سو اس مامور سے وہ غفلت میں رہے ۔ان کی آنکھوں کے آگے طرح طرح کے شہباب کے حجاب چھائے رہے اور حق کا نور نظر نہ آیا کیونکہ جوش تعصب سے ان کو ایسی حالت یہ ہوگئی جو وہ اس مامور کی بات کو سن ہی نہیں سکتے ۔ وَکَانوُ الا یَستطیعُون َسمعًا (لکھف : ۱۰۲) اب ان لوگوں کی حالت یہی ہو رہی ہے اور اس کی سزا بھی وہی مل رہی ہے جو قرآن مجید میں ہے کہ عرَضَنَا جَھَنّمَ یَومئذِِ للکَافِرِینَ عَرضًا۱؎( الکھف : ۱۰۱)