بلا تاریخ۱؎ سچے مذہب کی پہچان :۔ ایک ہندو نے حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کی کہ سچے مذہب کی کیا شناخت ہے؟ دُنیا میں اس قدر مذاہب پھیلے ہوئے ہیں ان میں سے کسی طرح شناخت کریں کہ سب سے افضل اور اعلیٰ مذہب قابل قبول کو ن سا ہے؟ حضرت نے فرمایا:۔ جس مذہب میں سب سے زیادہ تعظیم الٰہی اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کا سامان ہو وہی سب سے اعلیٰ مذہب ہے۔ انسان اسی چیز کی قدر زیادہ کرتاہے جس کا علم اس کو زیادہ حاصل ہوتاہے ۔ مثلاً ایک شخص کو معلوم ہو کہ فلاح مکان میں ایک سانپ پھرتاہے اور وہ آدمیوں کا کاٹتا ہے تو وہ شخص کبھی جرات نہ کرے گا کہ رات کو ایسے مکان میں جاکر سوئے۔ اگرکسی کو معلوم ہو جائے کہ اس کھانے میں جو میرے آگے رکھا ہے زہرہے تو وہ ہرگز کبھی ایک لقمہ بھی اس کھانے میں سے نہ اُٹھائے گا۔ اگرکسی گائوں میں طاعون ہو اور لوگ مررہے ہوں تو کوئی شخص اس گائوں میں جانے کا حوصلہ نہیں کرتا۔ جس کو معلوم ہو کہ جنگل میں شیر رہتاہے وہ اس جنگل میں ہر گز داخل نہیں ہوتا۔ ان سب کا اصل علم اور معرفت ہے جس چیز کا علم انسان کو بخوبی ہوجاوے اور اس کے متعلق معرفت تام پیدا ہو جاوے۔ انسان اس کے برخلاف بالکل نہیں کر سکتا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ لوگ گناہ کو ترک نہیں کرتے؟ اس کا سبب یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا کامل علم اور معرفتِ تام اُن کو حاصل نہیں ۔ یہ جو کہا جاتاہے اور اقرار کیا جاتاہے کہ ہم خدا پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ صرف ایک رسمی ایمان ہے ورنہ دراصل گناہ سوز معرفت حاصل نہیں ہے۔ اگر وہ حاصل ہوتو ممکن ہی نہیں کہ انسان پھر گناہ کر سکے ۔ ہر شئے کی قدر اس کی پہچان اور معرفت سے ہوتی ہے ۔ دیکھو۔ ایک جاہل گنوار کو ایک قیمتی پتھر لعل یا موتی مل جاوے تو وہ حددرجہ اس کو دو چار پیسہ میں فروخت کر دے گا۔ یہی مثال ان نادانوں کی ہے جنہوں نے خدا تعالیٰ کو نہیں پہچانا وہ الٰہی احکام کے بالمقابل دو چار پیسوں کی زیادہ قدر کرتے ہیں۔ جہاں کوئی دنیوی تھوڑا سا فائدہ نظر آتا ہے ۔ وہاں اپنا ایمان فروخت کردیتے ہیں ۔ جھوٹی گواہیاں عدالتوں میں جاکر دو آنہ یا چار آنہ کے بدلے دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک خدا تعالیٰ کے اس پاک حکم کی قدر کہ جھوٹ نہ بولو اور سچی گواہی دو اس سے بڑھ کر نہیں کہ دو چار آنہ کی خاطر اس کو چھوڑدیں اور بیچ ڈالیں۔ خدا تعالیٰ کی آیتوں کو تھوڑے مول پر بیچنے کے یہی معنی ہیں کہ انسان تھوڑے سے