کا اختلاف پیدا ہو جائے گا اور سب مذاہب ایک دنگل میں ہو کر نکلیں گے ۔ ترکنا کا اس کا بات کی طرف اشارہ ہے کہ آزادی کا زمانہ ہو گا اور یہ آزادی کمال تک پہنچ جائے گی تو اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے مامور کی معرت ان کو جمع کرنے کا ارادہ کر کے گا ۔پہلے دیکھو ۔ جمعنھم فرما اور ابتدائے عالک کے لئے خَلَقکم مّن نَّفس وَّاحدَۃِِ وَّخَلَقَ منھَا زَوجَھَاوَبّثَّ منھُمَا رجَالًا کَثیراًوَّنسآئً ( النساء : ۲) فرمایا لفظ بثَّ اور جَمَعَآپس میں پوراتنا قص رکھتے ہیں گویا دائرہ پورا ہو کر پھر وہی زمانہ ہوجائے گا ۔پہلے تو وحدت شخصٰ تھی اب خیر میں وحدت نوعی ہو جائے گی اس سے آگے فرما ہے وعَرَضنَا جَھَنَّم یومئذِِ للکَافرینَ عَرضًا (الکھف:۱۰۱) یہ مسیح کے زمانے کا ایک نشان بتلا یا کہ اس دن جہنم پیش کیا جاوے گا ان کافروں پر یہ قیامت کا ذکر نہیں کیونکہ اس دن جہنم کا پیش کیا کرنا ہے اس روز تو اس میں کفار داخل ہوں گے ۔ جہنم سے مراد طاعون ہے ۔ چنانچہ ہمارے الہاماتا میں کئی بار طاعون کو جہنم فرمایا گیا ۔ یاَتیِ عَلیٰ جَھَنَّمَ زمانٌ لَّیسَ فِیھَا اَحَدٌ بھی ایک الہام ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے دو فرقوں کا ذکر فرمادیا ایک تو وہ سعید جنہوں نے مسیح کا قبول کیا دوسرے وہ شقی جو مسیح کا کفر کرنے والے ہوں گے ۔اُن کے لئے فرمایا کہ ہم طاعون بطور جہنم بھیجیں گے اور نُفِخَ فی الصُّورِ (الکھف:۱۰۰) یہ مرادہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں ۔وحی کے زریعہ ان میں آوازدی جاتی ہے اور پھر یہ آواز اُن کی معرفت تمام جہان میں پہنچتی ہے پھر ان میں ایک ایسی کشش پیدا ہو جاتی ہے کہ لوگ باوجود اختلاف خیالات وطبائع وحالات کے اس کی آواز پر جمع ہونے لگتے ہیں اور آخر کار وہ زمانہ آجا تا ہے ہ ایک ہی گلہ اور ایک ہی گلہ بان ہو ۔ خدا تعالیٰ نے ہمارے لیے خود اہی ایسے اسباب مہیا کر دئیے ہیں کہ جس سے تمام سعید روحیں ایک دین پر جمع ہو سکیں ۔ آنحضرت ﷺ کو فرمایا گیا تھا قُل یَٰا یُّھاَ النَّاسُ اِنی رَسُولُ اللّٰہِ الَیکُم جمیعًا (الاعراف:۱۵۹) ایک طرف یہ جمیعاً دوسری طرف ایک خا ص علاقہ رکھتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی کاروائی تو اس جمع کو تو اسی زمانہ نبوی میں شروع ہو گئی تھی ۔مگر اسباب کا تہیہ کمال پر اس زمانہ میں پہنچا ۔ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں سفر کی تمام راہیں نہ کھلی تھیں ۔تفسیر کبیر میں لکھا ہے کہ بعض ایسے مقامات بھی ہیں جن میں آنحضرت ﷺ کی دعوت نہیں پہنچی مگر اب تو ڈاک تار ریل سے زمین کے اس سرے سے اُس سرے تک خبر پہنچ سکتی ہے ۔یہ حجاز ریلوے جو بن رہی ہے یہ بھی اسی پیشگوئی کے ما تحت ہے ۔ عرب کے کئی لوگ کہنے لگ گئے ہیں کہ اذا العشارُعُطِّلت (التکویر:۵) کا زمانہ آگیا ۔عشار ( گابھن اونٹنیاں کا لفظ خود ظاہر کرتا ہے کہ یہ سب قیامت سے پہلے ہو گا کیونکہ اس دن کی نسبت تو لکھا ہے کہ ہر حمل والی اپنا حمل گرا