سکتے ہیں ؟ فرمایا :۔ مجبوری کے وقت تو جائز ہے مگر آج کل ایسی مجبوری کیا ہے ۔ انسان تلاش کر سکتا ہے اور دن کافی ہوتے ہیں خواہ مخواہ حجت کرنا یا تساہل کرنا جائز نہیں۲؎ ۳ جنوری ۱۹۰۸؁ء بوقت سیر قرآن کریم میں مذکور کو آخری زمانہ کی علالت فرمایا :۔ قرآن مجید میں آتا ہے کہ کفار کہیں گے لَو کُنَّا نَسمعَُ آونَعمَلُ مَا کُنَّا فیٓ اَصحابِ السَّعیرِ ( الملک :۱۱ ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تدبر کے سوا ایمان صحیح نہیں ہوتا ۔سورۃ تکویر میں سب نشانات آخری زمانے کے ہیں ۔ انہیں میں ایک نشان ہے وَاِذا العشَارُعُطِلَت ( التکویر :۵) یعنی جب اونٹنیاں بیکا ر چھوڑی جائیں گی ۔ اس کی تفسیر میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا ولَیُترَ کُنَّ القِلاَصُ فَلَا یُسعَی عَلَیھَا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود بھی اسی زمانہ میں ہوگا اس کے ابتدائی زمانے کے یہ نشان ہیں ۔ پھر فرمایا ۔وَاذَا النُّفُوسُ زُوِّ جَتُ ( اکتکویر : ۸ ) یعنی ایسے اسباب سفر مہیا ہو جائیں گے کہ قومیں باوجود اتنی دور ہونے کے آپس میں مل جائیں گی حتی کہ نئی دنیا پرانی سے تعلقا ت پیدا کر لے کی ۔ یا جوج ماجوج کا اانا ۔دجال کا نکلنا اور صلیب کا غلبہ یہ بھی اسی زمانہ کے نشان ہیں ۔ان کے متعلق لو گوں نے غلط فہمی سے تنا قص پید کر لیا ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ الگ الگ ہیں ۔حالانکہ ان میں سے ہر ایک کی نسبت یہ عیقدہ رکھتے ہیں کہ وہ تمام روئے زمین پر محیط ہو جائیں گے ۔پس اگر یا جوج ماجوج محیط ہو گئے تو پھر دجال کہاں احاط کرے گا اور صلیب کا غلبہ کس جگہ ہوگا ؟ سوائے یہ کہنے کے کچھ چارہ نہیں کہ یہ سب ایک ہی قوم کے مختلف افراد ہیں اور اگر ان کو ایک بنا دیں تو پھر کوئی مشکل نہ رہے گی ۔خدا تعالیٰ نے ان کی نسبت فرمایا ہے ۔ وَتَرَکنَا بعضَھُم یَومئذِِ یَّمُوجُ فیِ بعضِِ وَّ نُفخَ فی الصُّورِ فجَمَعنَھُم جَمعًا ( الکھف: ۱۰ ) جس سے ظاہر ہے کہ نہایت درجہ