بلا تا ریخ
سفر میں نمازوں کا قصر
سوال پیش ہوا کہ اگر کوئی تین کوس سفر پر جائے تو کیا نماز وں کو قصر کرے ؟
فرمایا :َ
ہاں دیکھو اپنی نیت کو خو ب دیکھ لو ۔ ایسی تما م باتوں میں تقوی ٰ کا بہت خیال رکھنا چاہیے ۔اگر کوئی شخص ہر روز معمولی کاروبار سفر کے لیے جاتا ہے تو وہ سفر نہیں بلکہ سفر نہیں بلکہ سفر وہ ہے جسے انسان خصوصیت سے اخیتار کر ے اور صرف اس کام کے لئے گھر چھوڑ کر جائے اور عرف میں وہ سفر کہلاتا ہے ۔ دیکھو ۔یوں تو ہم ہر روز سیر کے لئے دو دو میل نکل جاتے ہیں مگر یہ سفر نہیں ایسے موقعہ پر دل کے اطمینان کو دیکھ لینا چاہئیے کہ اگر وہ بغیر کسی غلجان کے فتویٰ دے کہ یہ سفر ہے تو قصر کے ۔ استقت قلبک ( اپنے دل سے فتویٰ لو ) پر عمل چاہییے ہزار فتویٰ ہو پھر بھی مومن کو نیک نیتی سے قلبی اطمینان عمدہ شئے ہے ۔
عرض کیا گیا کہ انسانوں کے حالات مختلف ہیں بعض نو دس کوس کو بھی سفر نہیں سمجھتے بعض کے لیے تین چار کوس بھی سفر ہے۔
فرمایا :۔
شریعت نے ان باتوں کا اعتبار نہیں کیا ۔ صحابہ کرام نے تین کوس کو بھی سفر سمجھا ہے ۔
عرض کیا گیا ۔حضور بٹالہ جاتے ہیں تو قصر فرماتے ہیں فرمایا :۔
ہاں کیونکہ وہ سفر ہے ۔ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی طیب یا حاکم بطور دور رہ کئی گاؤں میں پھیرتا ہے تو وہ اپنے تمام سفر کو جمع کر کے اسے سفر کہہ سکتا ۔
قربانی کا بکرا
سوال پیش ہوا ۔ایک سال کا بکرا بھی قربانی کے لیے جائز ہے ؟
فرمایا :۔
مولوی صاحب سے پوچھ لو ۔ اہلحدیث وحنفاء کا اس میں اختلاف ہے ۱؎
قربانی کے لیے ناقص جانور
ایک شخص نے حضرت سے دریافت کیا کہ اگر جانور مطابق علامات مذکورہ در حدیث نہ ملے تو کیا نا قص کو ذبح کر