نیت کو کفر جا نتے ہیں ۔ ہم نے تو ہمیشہ کے لیے خدا تعالیٰ کی عبادت کا جوا اپنے گلے میں ڈال لیا ہے ۔ اگر خدا تعالیٰ ہمیں وفات دے تو اس سے ہماری نیت میں کوئی فرق نہیں ۔ہم اسی عبادت کے ثواب کو سا تھ لے کر فو ت ہو تے ہیں ۔ہم اس کو محدود نہیں رکھتے ۔
اسلا م کا خدا
خد ا تعالی ٰ کا شکر ہے کہ قرآن شریف نے ایسا خدا پیش نہیں کیا جو ایسی نا قص صفات والا ہو کہ نہ وہ رحوں کا مالک ہے نہ ذرات کا مالک ہے نہ اُن کو نجات دے سکتا ہے نہ کسی کی توبہ قبول کر سکتا ہے ۔ بلک ہم قرآن شریف کی رو سے اس خدا کے بندے ہیں جو ہمارا خالق ہے ہمارا مالک ہے ۔ ہمارا رازق ہے ۔ رحمان ہے رحیم ہے مالک یوم الدین ہے مومنوں کے واسطے یہ شکر کا مقام ہے کہ اس نے ہم کو ایسی کتاب عطا کی جو اس کی صحیح صفات کو ظاہر کر تی ہے ۔ یہ خدا تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے ۔
افسوس ہے ان جنہوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی ۔ان مسلمانوں پر بھی افسوس ہے جن کے سامنے عمدہ کھانا اور ٹھنڈ ا پانی رکھا گیا ہے لیکن وہ پیٹھ دے کر بیٹھ گئے ہیں اور اس کھانے کو نہیں کھاتے زمانے کے مصائب سے بچانے کے واسطے ان کے لیے ایک وسیع محل تیار کیا گیا جس میں ہزاروں آدمی داخل ہو سکتے ہیں مگر افسوس اُن پر کہ وہ خود بھی داخل نہ ہوئے اور دوسروں کو بھی داخل ہونے سے روک دیا ۔
یہ نفخ صور کا وقت ہے
کیا پہلے سے نہیں کہا گیا تھا کہ آخری زمانہ میں ایک قرنا آسمان سے پھونگی جائے گی ۔کیا وحی خدا کی آواز نہیں ۔انبیاء جو آتے ہیں وہ قرنا کا حکم رکھتے ہیں ۔نفخ صور سے یہی مراد تھی کہ اس وقت ایک مامور کو بھیجا جائے گا ۔وہ سنا وے گا کہ اب تمہار اوقت آگیا ہے کون کسی کو درست کر سکتا ہے جب تک کہ خدا تعالیٰ درست نہ کرے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو ایک قوت جاذبہ عطا کرتا ہے کہ لوگوں کے دل اس کی طرف مائل ہوتے چلے جا تے ہیں ۔ خدا تعالیٰ کے کام کبھی حبط نہیں جاتے ایک قدرتی کشش کام کر دکھائے گی اب وہ وقت آگیا ہے جس کی خبر تمام انبیاء ابتداء سے دیتے چلے آئے ہیں ۔خدا تعالیٰ کے فیصؒہ کا وقت قریب ہے اس سے ڈرو اور توبہ کرو ۔۱؎