آریوں کے عقاید کا بوداپن ( ۱) آریہ سماجی کہتے ہیں کہ کئی ارب سالوں کے بعد دنیا میں ایک کتاب آتی ہے اور وہ بار بار دید ہی ہو تے ہیں اور ہند میں ہی آتے ہیں اور سنسکر ت کی ہی زبان اُن کے لئے خا ص ہے گویا پر میشر کو اور کسی ملک یا زبان کی خبر ہی نہیں ۔ نہیں معلوم کہ پر میشر ہندوستان پر ایسا کیوں ریجھ گیا ہے اور باوجود اس کے ہندوؤں کو ایسی ذلت میں کیوں رکھا ہے ؟ اس وقت عیسائی بھی بادشاہ ہیں ۔مسلمان بھی با دشاہ ہیں بد ھ بھی با دشاہ ہیں مگر کہیں آریوں کی با د شاہی نہیں ۔معلوم نہیں کہ میشر کو کیوں یہ بہت پسند آیا ؟ شاید اس وجہ سے کہ یہاں نیوگی لوگ رہتے ہیں جو اپنی زندگی میں اپنی بیوی کے واسطے موٹا تازہ خا وند تلا ش کر تے ہیں کہ اس سے ہمبستر ہو اور اس کے لئے خوبصورت بچے جنے اور یہ بھی شرط ضروری ہے کہ وہ بیرج داتا برہمن ہو ۔ ( ۲) پھر انسان کو ہنسی آتی ہے کہ آریوں کا یہ ناپاک عقیدہ ہے کہ انسان ایک مدت تک نجات یا فتہ ہو کر مکتی خانہ میں رہے اور پھر ناکردہ گناہ کی وجہ سے وہاں سے نکالا جا وے اور کتا سور بلا بنا یا جاوے ۔ آریہ کہتے ہیں کہ پرمیشر ہر ایک انسان میں تھوڑا سا تھان بطور بیج کے لا زماً باقی رکھ لیتا ہے جو اس کو دوبارہ پھنسانے کے کام آتا ہے لکن یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اس بقیہ گناہ کے سبب پھر سزائیں ایسی مختلف کیوں دی جاتی ہیں کہ کوئی شیر بنایا جاوے اور کوئی بکری۔کوئی بچھو ۔اور سانپ بنا یا جاوے اور کوئی گھوڑا اور ہاتھی اور کوئی کرم ناپاک بنایا جائے اور کوئی انسان پوتر ۔پھر انسانوں میں کوئی مر د بنایا جائے اور کوئی عورت ۔اس تفریق کا کیا سبب ہو سکتا ہے ۔ ؟ ( ۳) پھر یہ بھی آریوں کا ایک عجیب مسئلہ ہے کہ مختلف گناہوں کے سبب مختلف جونیں بنتی ہیں ۔اس سے تو لازم آتا ہے کہ جس قدر جونیں ہیں اسی قدر گناہوں کی تعداد ہو اور چونکہ الہامی کتاب صرف وید ہی ہے اس واسطے وہ تمام گناہ وید میں مذکور ہونے چاہئیں ۔لیکن جب وید کے احکام کو دیکھا جاتا ہے توان کی گنتی آریوں کے نزدیک بھی چند سو سے زائد نہ ہو گی ۔ لیکن کئی ہزار قسم کے جانور تو جنگلوں میں موجود ہیں ۔کئی ہزار قسم کے کیڑے مکوڑے زمین پر رینگ رہے ہیں ۔پھر درختوں کے پرند اور سمندروں کے جا نور جن کی گنتی ہی نہیں یہ اتنی جونیں کہاں سے آگئیں ۔ ( ۴) آریہ لوگ کہتے ہیں کہ روحوں کو بہشت میں سے نکالنے کی ضرورت اس واسطے پڑے گی کہ ان کی عبا دت بہت محدود زمانہ کی تھی ۔ ایسی محدود عبادت کا بدلہ محدود وقت کے لئے ہونا چاہئیے مگر یہ عقیدہ بہت ہی فاسد ہے آریہ لوگ ایسے محدود وقت کا خیال سے عبادت کرتے ہوں گے ۔اسلام میں تو یہ با ت نہیں ہمار ا عہد تو خدا تعالیٰ کے سا تھ ابدی ہے ہم کسی محدود وقت کی نیت کے سا تھ خدا تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے بلکہ ایسی