کر دیا تھا ۔ ان مولویوں سے جو ہم پر کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں کوئی یہ پوچھے کہ کیا ہم کلمہ نہیں پڑھتے پھر کیا وجہ ہے کہ ان کے نزدیک ہم ہند وعیسائی وغیرہ ہر ایک سے بد تر ہیں؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ مولوی لوگ طمع نفسانی کے بندے ہیں ۔ ایک شخص نے مجھے خوب کہا تھا کہ ان مولویوں کا خا موش کرانا کیا مشکل تھا ۔آپ ان سب کو بالا کر دو دو روپے دے دیتے تو سب خا موش ہو جاتے اور کوئی بھی آپ کی مخالفت نہ کر سکتا ۔ میں نے کہا کہ ہم نے تو ان لوگوں کے تقویٰ پر بھر وسہ کیا تھا ۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ ایسے نفسانی بندے نکلیں گے یہ تو منبروں پر کھڑے ہو کر کہا کرتے تھے کہ موسیٰ کہاں اور عیسیٰ کہاں ۔ہمیں کیا معلوم تھا کہ باوجود ایسے خطبے پڑھنے اور سنانے کے یہ وفات مسیح پر ایسے مشتعل ہوں گے ۔ کہ گویا تمام دارومدار اسلام کا حضرت عیسی کی زندگی پر ہے ۔ شیطان کیسا تھ آخری جنگ لیکن وہ یہ لوگ جو چاہیں سو کر لیں۔ اب تو خدا تعالیٰ کا ارادہ ہو چکا ہے کہ شیطان کو ہلاک کر دے ۔ شیطان کی یہ آخر ی جنگ ہے اور وہ ضرور ہلاک ہو گا ۔وہ ضرور قتل کیا جائے گا ۔شیطان نے بھی حیات مسیح میں پناہ لی ہے ۔ مگر وفات مسیح کے ثبوت کے سا تھ ہی شیطان بھی ہلاک ہو جائے گا۔ شیطان نے پا دریوں کے ہاں اور ان کے حامیوں کے ہاں لبیرا کیا ہے مگر خدا کے مسیح کے سا تھ ملائک اور راستباز لوگ جمع ہو رہے اور اسلام کی مخالفت میں ہر طرح کا زور دکھایا جا رہا ہے ۔ ہند وستان مجموعۃ المذاہب ہے اول تو یہ زمانہ ہی ایسا ہے کہ بہ سبب تا ر ڈاک ۔ریل تمام زمین گویا ایک ہی شہر بن رہی ہے ۔ ہر وقت کی خبریں آتی ہیں ۔کثرت سے لوگ ادھر اُدھر آتے جاتے ہیں مگر بالخصوص ہندوستان ایسا ملک ہے جس میں ہر قسم کے لوگ موجود ہیں ۔ایسے بھی ہیں جو وجود باری تعالیٰ کے منکر ہیں ۔پھر بے قید لوگ بھی ہیں جو کہتے ہیں جو چاہو سو کرو ۔پھر کتاب کے منکر برہموموجود ہیں ۔ انسان کے پجاری بھی ہیں ۔پتھروں کو خدا ماننے والے بھی ہیں ۔ایک لاکھ سے زائد مرتد عیسائی موجود ہیں ۔سورج پرست ہیں ۔پانی کو پوجا کرنے والے آگ کی پو جا کرنے والے ہیں آتش پرستی کے بڑے مذر کو زلزلے نے گرا دیا تھا تو اب نیا بنا رہے ہیں اور انہیں جانتے کہ ایک زلزلہ اور آنے والا ہے۔آزادی اس قسم کی ہے جو جس کے جی میں آتا ہے وہ کہہ گذرتا ہے ۔کسی کی پروا نہیں ۔غرض یہ وہی وقت ہے اور بالخصوص ہند میں وہی نظارہ موجود ہے جس کے واسطے پہلے سے پیشگوئی کی گئی تھی ۔ عیسائی لوگ پچاس پچاس ہزار کتاب السام کے بر خلاف شائع کر رہے ہیں ۔