رات کو اس قدر عبادت میں کھڑے ہو تے تھے کہ پاؤں پر ورم ہو جاتا تھا ۔ ساتھی نے عرض کی کہ آپ تو گناہوں سے پاک ہیں اس قدر محنت پھر کس لئے فرمایا ۔ افلَ اَکُونَ عَبدًا شَکُوراً کیا میں شکر گذار نہ بنوں ۔ انسان کو مایوس نہیں ہونا چاہئیے انسان کو چاہئیے کہ مایوس نہ ہو وے گناہوں کا حملہ سخت ہوتا ہے اور اصلاح مشکل نظر آتی ہے مگر گھبرانا نہیں چاہئیے ۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو بڑے گنہگار ہیں۔ نفس ہم پر غالب ہے ۔ ہم کیونکر نیکو کار ہو سکتے ہیں ۔ان کو سوچنا چاہیے کہ مومن کبھی نا اُمید نہیں ہوتا ۔خد ا تعالیٰ کی رحمت سے نا اُمید ہونے والا شیطان ہے اور کوئی نہیں مومن کو کبھی بزدل نہیں ہونا چاہئیے ۔گو کیسا ہی گناہ سے مغلوب ہو ۔پھر بھی خدا تعالیٰ نے انسان میں ایک ایسی قدرت رکھی ہے کہ وہ بہر حال گناہ پر غالب آ ہی جاتا ہے ۔ انسان میں گناہ سو ز قوت خدا تعالیٰ نے رکھی ہے ۔جو اس کی فطرت میں موجو د ہے ۔ ایک لطیف مثال دیکھو پانی کو کیسا ہی گرم کیا جائے ۔ایسا سخت گرم کیا جائے کہ جس چیز پر ڈالیں وہ چیز جل بھی جائے ۔پھر بھی اگر اس کو آگ پر ڈالو تو وہ آگ کو بجھا دے گا کیونکہ اس میں خدا تعالیٰ نے یہ خا صیت رکھ دی ہے کہ وہ آگ کو بجھا دیو ے ۔ایسا ہی انسان کیسا ہی گناہ میں ملوث ہو اور کیسا ہی بد کاری میں غرق ہو پھر بھی اس میں یہ طاقت موجود ہے کہ وہ معاصی کی آگ کو بجھا سکتا ہے ۔اگر یہ بات انسان میں نہ ہوتی تو پھر وہ مکلف نہ ہوتا بلکہ پیغمبر رسول کا آنا بھی پھر غیر ضروری ہو تا مگر دراصل فطرت انسانی کے واسطے دم لینے کے واسطے ہو ا کی ضٖرورت ہے تو وہ موجود ہے اور جسم کے لیے جس قدر سامان ضروری ہیں جب کہ وہ سب مہیا کردئیے جاتے ہیں تو پھر روح کے واسطے جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ کیوں مہیا نہ ہوں گی خدا تعالیٰ رحیم غفور اور ستارے اس نے روحانی بچاؤ کے واسطے بھی تمام سامان مہیا کر دئیے ہیں ۔انسان کو چاہئیے کہ روحانی پانی کو تلاش کر ے تو وہ اُسے ضرور پا لے گا ۔ اور روحانی روٹی کو ڈھونڈے تو وہ اُسے ضرور دی جائے گی ۔ جیسا کہ ظاہری قانون قدرت ہے ویسا ہی باطن میں بھی قانون قدرت ہے لیکن تلا ش شرط ہے جو تلاش کرے گا وہ ضرور پا لے گا ۔ خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق پید ا کرنے میں جو شخص سعی کرے گا ۔خدا تعالیٰ اس سے ضرور راضی ہو جائے گا۔ اس زمانہ کے مولوی یہ آخری زمانہ تھا اور تا ریکی سے بھرا ہوا تھااس زمانہ کے متعلق خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ اس زمانہ میں ایک آفتاب نکلے گا ۔مولوی لو گوں کو دیکھنا چاہئیے کہ اس زمانہ میں تقویٰ کی کیا حالت ہو رہی ہے ۔ ایک آدمی نے چا ر روپے کے زیور کے پیچھے ایک بچے کو قتل