مومن بلندی پر چڑھ جائے تو شیطان پھر اس پر غالب نہیں آسکتا ۔مومن کو چاہئیے کہ وہ خدا تعالیٰ سے دعا کرے کہ اس کو ایک ایسی طا قت مل جائے جس سے وہ شیطان کو ہلاک کر سکے ۔جتنے بُرے خیالات پید ا ہوتے ہیں ان سب کا دور کرنا شیطان کو ہلاک کرنے پر منصر ہے مومن کو چاہیے کہ استقلال سے کام لے ہمت نہ ہارے شیطان کو مارنے کے پیچھے پڑا رہے ۔ آخر وہ ایک دن کامیاب ہو جائے گا ۔ خدا تعالیٰ رحیم وکریم ہے جو لوگ اس کی راہ میں کو شش کرتے ہیں ۔ وہ آخر ان کو کامیابی کا مونہہ دکھا دیتا ہے ۔ بڑا درجہ انسان کا اسی میں ہے کہ وہ اپنے شیطان کو ہلاک کرے ۔ اپنے خوابوں اور الہامات پر نا ز نہ کرو ایسے ضروری کام کو چھوڑ کر جو مومن کا اصل منشاء ہے بعض لوگ اور باتوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں ۔مثلاً کسی کو ایک خواب آجائے یا چند الفاظ زبان پر جاری ہو جائیں تو وہ سمجھتا ہے کہ اب میں ولی ہو گیا ہوں ۔ یہی نقطہ ہے جس پر انسان دھوکہ کھا تا ہے ۔ خواب تو چوہڑوں چماروں او ر کنچروں کو بھی آجا تے ہیں اور سچے بھی ہو جاتے ہیں ۔ ایسی چیز پر فخر کرنا لعنت ہے فرض کرو کہ ایک شخص کو چند خوابیں آگئی ہیں اور وہ سچی بھی ہو گئی مگر اس سے کیا بنتا ہے ؟ کیا سخت پیاس کے وقت ایک شخص کو دو چار قطرے پانی کے پلائے جاویں تو وہ بچ جائے گا ؟ ہر گز نہیں بلکہ اس کی تپش اور بھی بڑھے گی ۔ ایسا ہی جب تک کہ کسی انسان کو پوری مقدار معرفت کی اپنی کیفیت اور کثرت کے سا تھ حا صل نہ ہو تب تک یہ خوابیں کچھ شئے نہیں ۔انسان کی عمدہ اور قابل تشفی وہ حالت ہے کہ وہ عملی رنگ میں درست اور صاف ہو ۔ اس کی عملی حالت خود اس پر گواہی دے ۔ خدا تعالیٰ کی برکات اور زبر دست خوارق اس کے سا تھ ہوں اور ہر دم اس کی تا ئید کرتے ہوں تب خدا اس کے ساتھ ہے اور وہ خدا کے سا تھ ہے ۔ ہر ایک بات میں شیطان ایک موقعہ نکال لیتا ہے کہ لوگوں کو کسی طرح سے بہکائے ۔چونکہ ہم بار بار اپنی وحی اور الہام پیش کرتے ہیں اس واسطے بعض لوگوں کو یہ خیال ہوا کہ ہم بھی ایسا ہی کریں ۔یہ ایک ابتلاء ہے جو اُن پر وارد ہوا ۔اور اس کی ہلاکت کی راہ میں شیطان نے اُن کی امداد کی اور ان کو شیطانی القاء اور حدیث النفس شروع ہوا ۔ چراغ دین الہٰی بخش ۔فقیر مرزا اور دوسرے بہت سے اس راہ میں ہلاک ہو گئے اور ہنوز بہت سے ایسے ہیں جن کا قدم اسی راہ پر ہے ۔ ہماری جماعت کے آدمیوں کو چاہئے کہ ایسی باتوں سے دل ہٹا لیں ۔قیامت کے دن خدا تعالیٰ اُن سے یہ نہیں پوچھے گا کہ تم کو کس قدر الہام ہوئے تھے یا کتنی خوابیں آئی تھیں بلکہ عمل صالح کے متعلق سوال ہو گا کہ کس قدر نیک عمل تم نے کئے ہیں ۔الہام وحی تو خدا تعالیٰ کا فعل ہے ۔ کوئی انسانی عمل نہیں ۔خدا تعالیٰ کے فعل پر اپنا فخر جاننا اور خوش ہونا ۔ جاہل کا کام ہے ۔حضرت رسول کریم ﷺ کو دیکھو کہ آپ بعض دفعہ