ایک حا کم کے سامنے کھڑا ہوتا ہے ۔ تو کیا اس وقت اس کے دل میں کوئی وسوسہ گذرجاتا ہے ہر گز نہیں وہ ہم تن حاکم کی طرف متوجہ ہو تا ہے اور اس فکر میں ہوتا ہے کہ حاکم کیا حکم سناتا ہے ۔ اس وقت تو وہ اپنے وجود سے بھی بالکل بے خبر ہو تا ہے ۔ ایسا ہی جب صدق دل سے انسان خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور سچے دل سے ا س کے آستانہ پر گرے تو پھر کیا مجال ہے کہ شیطان انسان کو پورا دشمن ہے قرآن شریف میں اس کا نام عدد رکھا گیا ہے ۔اس نے اول تمہارے باپ کو نکالا ۔پھر وہ اس پر خو ش نہیں اب اس کا یہ ارادہ ہے کہ تم سب کو دوزخ میں ڈال دے ۔ یہ دوسرا حملہ پہلے سے بھی زیا دہ سخت ہے ہو ابتداء سے بدی کرتا چلا آیا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ تم پر غالب آوے ۔لیکن جب تک کہ تم ہر بات میں خدا تعالیٰ کو مقدم رکھو گے وہ ہر گز تم پر غالب نہ آسکے گا ۔ جب انسان خدا کی راہ میں دکھ اُٹھاتا ہے اور شیطان سے مغلوب نہیں ہو تا ۔ تب اس کو ایک نور ملتا ہے ۔
شہاب ثاقب کی حقیقت
جب کہ ایک مومن سب باتوں پر خدا تعالیٰ کو مقدم کر لیتا ہے تب اس کا خدا کی طرف رفع ہو تا ہے ۔وہ اسی زندگی میں خدا تعالیٰ کی طرف اُٹھایا جا تا ہے اور خاص نور سے منور کیا جاتا ہے ۔ اس رفع میں وہ شیطان کی زد سے ایسا بلند ہو جاتا ہے کہ پھر شیطان کا ہاتھ اس تک نہیں پہنچ سکتا ۔ ہر ایک چیز کا خدا تعالیٰ نے اس دنیا میں بھی ایک نمونہ رکھا ہے اور اسی کی طرف اشارہ ہے کہ شیطان جب آسمان کی طرف چڑھنے لگتا ہے تو ایک شہاب ثاقب اس کے پیچھے پڑتا ہے جو اس کو نیچے گرا دیتا ہے ۔ثاقب روشن ستارے کو کہتے ہین اس ۲چیز کو بھی ثاقب کہتے ہیں جو سوراخ کر دتیی ہے اور اس چیز ۳ کو بھی ثاقب کہتے ہیں جو بہت اونچی چلی جاتی ہو ۔ اس میں حالت انسانی کے واسطے ایک مثال بیان کر گئی ہے ۔ جو اپنے اندر ایک نہ صرف ظاہری بلکہ ایک مخفی حقیقت بھی رکھتی ہے جب ایک انسان کو خدا تعالیٰ پر پکا ایمان حا صل ہو جا تا ہے تو اس کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع ہو جاتا ہے اور اس کو ایک خا ص قوت اور طاقت اور روشنی عطا کی جا تی ہے۔جس کے ذریعہ سے وہ شیطان کو مارنے کی کو شش کرے اور اسے ہلاک کر ڈالے جو لوگ روحانیت کی سائنس سے نا واقف ہیں وہ ایسی باتوں پر ہنسی کرتے ہیں مگر دراصل وہ خود ہنسی کے لائق ہیں ۔ ایک قانون قدرت ظاہری ہے ۔ایسا ہی ایک قانون قدرت باطنی بھی ہے ظاہری قانون باطنی کے واسطے بطور ایک نشان کے ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی اپنی وحی میں فرمایا ہے کہ انتَ منی بمَنزِلَۃِ النَّجم الثَّاقِبِ یعنی تو مجھ سے بمنزلہ نجم ثاقب ہے ۔ اس کے یہ معنے ہیں کہ میں نے تجھے شیطان کے مارنے کے واسطے پیدا کیا ہے ۔ تیرے ہاتھ سے شیطان ہلاک ہو جائے گا ۔شیطان بلند نہیں جا سکتا ۔اگر